تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 33

وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿۳۳﴾
اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں عذاب دے، جب کہ تو ان میں ہو اور اللہ انھیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔ En
اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں سے تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخششیں مانگیں اور انہیں عذاب دے
En
اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِیْهِمْ اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔
اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلو عاجلهم الله بالعقاب؛ لما أبقى منهم باقيةً، ولكنَّه تعالى دَفَعَ عنهم العذابَ بسبب وجود الرسول بين أظهرهم، فقال: {وما كان الله لِيُعَذِّبَهم وأنت فيهم}: فوجوده - صلى الله عليه وسلم -[بين أظهرهم] أمَنَةٌ لهم من العذاب، وكانوا مع قولهم هذه المقالة التي يظهِرونها على رؤوس الأشهاد يدرون بقُبحها، فكانوا يخافون من وقوعها فيهم، فيستغفرونَ الله تعالى؛ فلهذا قال: {وما كان الله ليُعَذِّبَهم وهم يستغفرونَ}: فهذا مانعٌ يمنع من وقوع العذاب بهم بعدما انعقدتْ أسبابُه.