تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاِذْقَالُوااللّٰهُمَّاِنْكَانَهٰؔذَاهُوَالْحَقَّمِنْعِنْدِكَ﴾”اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے“ جس کی طرف محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمْطِرْعَلَیْنَاحِجَارَةًمِّنَالسَّمَآءِاَوِائْتِنَابِعَذَابٍاَلِیْمٍ ﴾”تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔“انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ”اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔“تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّاِنْكَانَهٰؔذَاهُوَالْحَقَّمِنْعِنْدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذْ قالوا اللهمَّ إن كان هذا}: الذي يدعو إليه محمدٌ، {هو الحقَّ من عندك فأمطِرْ علينا حجارةً من السماء أو ائتِنا بعذابٍ أليم}: قالوه على وجه الجزم منهم بباطلهم، والجهل بما ينبغي من الخطاب؛ فلو أنَّهم إذا قاموا على باطلهم من الشبه والتمويهات ما أوجب لهم أن يكونوا على بصيرةٍ ويقينٍ منه قالوا لمن ناظَرَهم وادَّعى أن الحقَّ معه: إنْ كان هذا هو الحقَّ من عندك؛ فاهِدنا له؛ لكان أولى لهم وأستر لظلمهم؛ فمذ قالوا: {اللهمَّ إن كان هذا هو الحقَّ من عندك ... } الآية؛ عُلم بمجرَّد قولهم أنهم السفهاء الأغبياء الجهلة الظالمون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔