تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 26

وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِیۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ تَخَافُوۡنَ اَنۡ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىکُمۡ وَ اَیَّدَکُمۡ بِنَصۡرِہٖ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾
اور یاد کرو جب تم بہت تھوڑے تھے، زمین میں نہایت کمزور سمجھے گئے تھے، ڈرتے تھے کہ لوگ تمھیں اچک کر لے جائیں گے تو اس نے تمھیں جگہ دی اور اپنی مدد کے ساتھ تمھیں قوت بخشی اور تمھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، تاکہ تم شکر کرو۔ En
اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو
En
اور اس حالت کو یاد کرو! جب کہ تم زمین میں قلیل تھے، کمزور شمار کئے جاتے تھے۔ اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو لوگ نوچ کھسوٹ نہ لیں، سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا تذکرہ کرتا ہے کہ وہ کمزور اور مغلوب تھے، اس نے ان کو اپنی نصرت سے نوازا، وہ قلیل تھے اس نے ان کو کثرت عطا کی اور وہ تنگ دست تھے، اس نے ان کو فراخی عطا کی۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَاذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے، کمزور تھے زمین میں یعنی تم غیروں کی حکومت میں محکوم و مجبور تھے ﴿ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ۠ النَّاسُ تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمھیں اچک نہ لیں ﴿ فَاٰوٰىكُمْ وَاَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰؔتِ تو اس نے تمھیں جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت دی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک شہر عطا کیا جہاں تم نے پناہ لی، اللہ تعالیٰ نے تمھارے ہاتھوں تمھارے دشمنوں کو شکست دی، تم نے ان سے مال غنیمت حاصل کیا جس کے ذریعے سے تم مال دار ہوگئے۔ ﴿ لَعَلَّـكُمْ تَشْكُرُوْنَ تاکہ تم شکر کرو۔ یعنی شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور کامل احسان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے اور اس کے ساتھ شرک سے اجتناب کر کے اس کا شکر ادا کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى ممتنًّا على عباده في نصرهم بعد الذِّلَّة وتكثيرهم بعد القِلَّة وإغنائهم بعد العيلة: {واذكُروا إذ أنتم قليلٌ مستَضْعَفون في الأرض}؛ أي: مقهورون تحت حكم غيركم، {تخافون أن يَتَخَطَّفَكُم الناسُ}؛ أي: يأخذونكم، {فآواكم وأيَّدكم بنصرِهِ ورَزَقَكم من الطّيِّبات}: فجعل لكم بلداً تأوون إليه، وانتصر من أعدائكم على أيديكم، وغنمتم من أموالهم ما كنتم به أغنياء، {لعلَّكم تشكرونَ}: الله على مِنَّتِهِ العظيمة وإحسانه التامِّ بأن تعبدوه، ولا تشركوا به شيئاً.