تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 27

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ وَ تَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور رسول کی خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو، جب کہ تم جانتے ہو۔ En
اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو
En
اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول (کے حقوق) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابل حفاﻇت چیزوں میں خیانت مت کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے اوامر و نواہی کی جو امانت ان کے سپرد کی ہے، وہ اسے ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو وہ ڈر گئے اور انھوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا اور انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا کیونکہ وہ نہایت ظالم اور نادان ہے۔
پس جو کوئی امانت ادا کرتا ہے وہ بے پایاں ثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور جو کوئی یہ امانت ادا نہیں کرتا تو سخت عذاب اس کے حصے میں آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنی امانت میں خیانت کا مرتکب قرار پاتا ہے، وہ اپنے آپ کو خیانت جیسی خسیس ترین صفات اور بدترین علامات سے متصف کر کے اپنے نفس کو نقصان میں ڈالتا ہے اور امانت جیسی بہترین اور کامل ترین صفات سے محروم ہو جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى عباده المؤمنين أن يؤدُّوا ما ائتمنهم الله عليه من أوامره ونواهيه؛ فإنَّ الأمانة قد عرضها الله على السماوات والأرض والجبال فأبَيْنَ أن يَحْمِلْنها وأشفَقْنَ منها وحملها الإنسانُ إنَّه كان ظلوماً جهولاً؛ فمن أدَّى الأمانة؛ استحقَّ من الله الثواب الجزيل، ومن لم يؤدِّها، بل خانها؛ استحقَّ العقاب الوبيل، وصار خائناً لله وللرسول ولأمانته، منقصاً لنفسه بكونه اتَّصفت نفسه بأخس الصفات وأقبح الشيات، وهو الخيانة، مفوتاً لها أكمل الصفات وأتمها، وهي الأمانة.