تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 25

وَ اتَّقُوۡا فِتۡنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمۡ خَآصَّۃً ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۵﴾
اور اس عظیم فتنے سے بچ جائو جو لازماً ان لوگوں کو خاص طور پر نہیں پہنچے گا جنھوں نے تم میںسے ظلم کیا اور جان لو کہ اللہ بہت سخت سزا والا ہے۔ En
اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے
En
اور تم ایسے وبال سے بچو! کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً اور اس فتنے سے بچو، جو تم میں سے خاص ظالموں پر ہی نہیں آئے گا بلکہ یہ فتنہ ظلم کرنے والوں اور دیگر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب ظلم غالب آجائے اور اس کو بدلا نہ جائے تو اس کی سزا ظلم کرنے والوں اور دوسرے لوگوں، سب کے لیے عام ہوتی ہے۔ اس لیے برائیوں سے منع کر کے، اہل شر کا قلع قمع کر کے کہ وہ ظلم اور معاصی کا ارتکاب نہ کر سکیں، اس فتنہ سے بچا جائے۔ ﴿ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے اور اس کی رضا کو ترک کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واتَّقوا فتنةً لا تُصيبَنَّ الذين ظلموا منكم خاصةً}: بل تصيب فاعل الظُّلم وغيره، وذلك إذا ظهر الظلم فلم يغيَّر؛ فإنَّ عقوبته تعمُّ الفاعل وغيره. وتقوى هذه الفتنة بالنهي عن المنكر وقمع أهل الشرِّ والفساد وأن لا يُمَكَّنوا من المعاصي والظُّلم مهما أمكن. {واعلموا أنَّ الله شديدُ العقاب}: لمن تعرَّض لمساخطِهِ وجانبَ رضاه.