پس تم نے انھیں قتل نہیں کیا اور لیکن اللہ نے انھیں قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا جب تو نے پھینکا اور لیکن اللہ نے پھینکا اور تاکہ وہ مومنوں کو انعام عطا کرے، اپنی طرف سے اچھا انعام، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
En
تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے
سو تم نے انہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا۔ اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وه پھینکی اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب غزوۂ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَمْتَقْتُلُوْهُمْ ﴾”تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔“ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنَّاللّٰهَقَتَلَهُمْ ﴾”لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا“ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ ﴿ وَمَارَمَیْتَاِذْرَمَیْتَوَلٰكِنَّاللّٰهَرَمٰى ﴾”اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی۔“اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ”جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی“۔
﴿وَلِیُبْلِیَالْمُؤْمِنِیْنَمِنْهُبَلَآءًؔحَسَنًا ﴾”اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا“ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انھیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انھیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ ﴿اِنَّاللّٰهَسَمِیْعٌعَلِیْمٌ ﴾”بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔“ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لما انهزم المشركون يوم بدرٍ وقتلهم المسلمونَ: {فلم تقتُلوهم}: بحولِكم وقوَّتكم، {ولكنَّ الله قتلهم}: حيث أعانكم على ذلك بما تقدَّم ذكره، {وما رميتَ إذْ رميتَ ولكنَّ الله رمى}: وذلك أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - وقتَ القتال دخل العريش، وجعل يدعو الله، ويناشده في نصرته ، ثم خرج منه، فأخذ حَفْنَةً من تراب، فرماها في وجوه المشركين، فأوصلها الله إلى وجوههم، فما بقي منهم واحدٌ إلاَّ وقد أصاب وجهَهُ وفمه وعينيه منها ؛ فحينئذ انكسر حدهم وفتر زَندُهم وبان فيهم الفشل والضعف فانهزموا. يقول تعالى لنبيِّه: لستَ بقوَّتك حين رميتَ الترابَ أوصلتَهُ إلى أعينهم، وإنَّما أوصلناه إليهم بقوَّتنا واقتدارنا. {وَلِيُبْلِيَ المؤمنينَ منه بلاءً حسناً}؛ أي: إن الله تعالى قادرٌ على انتصار المؤمنين من الكافرين من دون مباشرةِ قتال، ولكنَّ الله أراد أن يمتحنَ المؤمنين ويوصِلَهم بالجهاد إلى أعلى الدرجات وأرفع المقامات ويعطيهم أجراً حسناً وثواباً جزيلاً. {إنَّ الله سميعٌ عليمٌ}: يسمع تعالى ما أسرَّ به العبد وما أعلن، ويعلم ما في قلبه من النيات الصالحة وضدِّها، فيقدِّر على العباد أقداراً موافقةً لعلمه وحكمته ومصلحة عباده، ويجزي كلاًّ بحسب نيَّته وعمله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔