تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ:} یعنی وہ مٹھی جو آپ نے پھینکی، درحقیقت آپ نے نہیں پھینکی، کیونکہ اگر وہ آپ کی پھینکی ہوئی ہوتی تو اتنی دور ہی جا سکتی جتنی ایک آدمی کے پھینکنے سے جا سکتی ہے، اس کو اتنا بڑھانا اور ٹھیک نشانے پر پہنچانا کہ ہر مشرک کی آنکھ میں پہنچ جائے صرف اللہ تعالیٰ کا کام تھا۔ یہ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جو حافظ ابن کثیر نے علی بن طلحہ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حسن سند سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا: ”یا رب! اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو پھر زمین میں تیری عبادت کبھی نہیں ہوگی۔“ تو جبریل علیہ السلام نے کہا: ”آپ مٹی کی ایک مٹھی لیں اور ان کے چہروں پر پھینکیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کی ایک مٹھی پکڑی اور ان کے چہروں کی طرف پھینکی تو جو بھی مشرک تھا اس کی آنکھوں، نتھنوں اور منہ میں اس مٹھی کا کچھ حصہ جا پہنچا تو وہ پیٹھ دے کر بھاگ گئے۔ گویا مٹی پھینکی آپ نے لیکن اس کو نشانے تک اللہ نے پہنچایا، ابتدائی کام پھینکنا آپ کا تھا اور انتہا نشانے پر لگانا اللہ کا فعل تھا۔ اگر درحقیقت خود آپ ہی اللہ تعالیٰ تھے تو دونوں فعل آپ کے ہوئے، آپ سے ایک فعل (نشانے پر لگانے) کی نفی کیوں کی گئی؟
➌ بعض لوگ {” مَا رَمَيْتَ “} سے ثابت کرتے ہیں کہ درحقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی پروردگار عالم تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے پھینکنے کو اپنا پھینکنا قرار دیا، مگر اس صورت میں تو لازم آئے گا کہ {” وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ “} سے بدری مسلمان بھی خود اللہ تعالیٰ ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفار کے قتل کرنے کو اپنا کام قرار دیا ہے۔ مگر یہ نہایت کفریہ بات ہے جس سے دین اسلام کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے۔ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کچھ بدر ہی میں شہید ہوئے، کچھ بعد میں فوت یا شہید ہوئے، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زہر کے اثر سے وفات پائی اور اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ زندہ حی و قیوم ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ہستی تو ایک ہی ہے، فرمایا: «{ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ }» ان لوگوں کا رب عجیب ہے، جو ایک نہیں بلکہ بڑی تعداد میں ہے اور وہ شہید ہوتا اور مرتا بھی ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہندوؤں کی طرح ہر چیز کو رب مانتے ہیں اور اسے وحدت الوجود کہتے ہیں۔ جس کا نتیجہ قرآن و حدیث کے احکام کا خاتمہ اور اسلام و کفر اور جنت و دوزخ سب کے وجود کا انکار ہے۔ [نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ]
➍ { وَ لِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا: ” لِيُبْلِيَ “} یہ {” بَلَاءٌ“} سے مشتق ہے، از باب افعال، آزمانا، جو سختی اور مصیبت کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور نعمت عطا فرما کر بھی، اس لیے {” بَلَاءٌ“} کا معنی مصیبت بھی ہے اور انعام بھی۔ یہاں مراد انعام یا احسان اور عطا کے ساتھ آزمانا ہے۔ یعنی باوجود یہ کہ مسلمانوں کا سامان اور لشکر کافروں کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح دی، تاکہ وہ اس نعمت کو پہچانیں اور اس کا شکر بجا لائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» ۱؎ [3- آل عمران: 123]، ’ اللہ نے بدر کے دن تمہاری مدد کی ‘ اور آیت میں ہے آیت «لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ» ۱؎ [9- التوبہ: 25]، ’ بہت سی جگہ اللہ جل شانہ نے تمہاری امداد فرمائی ہے، حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی زیادتی پر گھمنڈ ہوا لیکن وہ بیکارثابت ہوئی اور یہ وسیع زمین تم پر تنگ ہو گئی اور آخر منہ موڑ کر تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ ‘
پس ثابت ہے کہ گنتی کی زیادتی، ہتھیاروں کی عمدگی اور سازو سامان کی فروانی پر غلبہ موقوف نہیں وہ تو اللہ کی مدد پر موقوف ہے۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے آیت «كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ» [2-البقرة: 249] یعنی ’ بسا اوقات چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے لشکروں کے منہ پھیر دیئے ہیں اور ان پر غلبہ حاصل کر لیا ہے یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مدد سے ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ‘
پھر مٹی کی اس مٹھی کا ذکر ہو رہا ہے «وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ» جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں کافروں کی طرف پھینکی تھی پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جھونپڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔
پس فرماتا ہے کہ وہ مٹھی تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی یعنی پھینکی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لیکن ان کی آنکھوں تک پہنچا کر انہیں شکست دینے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں یہ بھی کہا کہ { اے میرے پروردگار اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کبھی بھی تیری عبادت زمین پر نہ کی جائے گی۔ } اسی وقت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ایک مٹھی زمین سے مٹی کی بھرلیں اور ان کے منہ کی طرف پھینک دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا پس مشرکین کے سارے لشکر کے منہ اور آنکھ اور نتھنوں میں وہ مٹی گھس گئی اور انہیں پیٹھ پھیرتے ہی بنی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15740:ضعیف و منقطع]
مسلمانوں نے ان کو قتل کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا اور قید کرلیا۔ کافروں کو یہ ہزیمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کے سبب ہوئی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کنکر لئے تھے ایک سامنے پھینکا دو کنکر دشمن فوج کے سیدھی و بائیں طرف پھینکے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف]
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { کنکریوں کی ایک مٹھی زمین سے بھر کر مجھے دو } سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مٹھی بھردی جس میں کنکریاں تھیں اور مٹی بھی۔ آپ نے مشرکوں کی طرف وہ مٹھی پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ تین کنکر لے کر آپ نے پھینکے تھے ایک دائیں ایک بائیں ایک بیچ میں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] گو حنین والے دن بھی آپ نے کنکریاں مشرکوں کی طرف پھینکی تھیں لیکن یہاں ذکر جنگ بدر کے دن کا ہے۔ حکیم بن حزام کا بیان ہے کہ جنگ بدر کے دن ہم نے ایک آواز سنی کہ گویا آسمان سے کوئی کنکر کسی طشت میں گرا اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھینکی ہوئی کنکریاں ہم میں پہنچیں اور ہمیں شکست ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] یہ روایت اس سند سے بہت غریب ہے۔
یہاں دو قول اور بھی ہیں لیکن بالکل غریب ہیں۔ ایک تو یہ کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر یوم ابن ابی حقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کمان منگائی لوگوں نے بہت لمبی کمان لا کر آپ کو دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قلعے کی طرف تیر پھینکا وہ گھومتا ہوا چلا اور سردار قلعہ الوالحقیق کو اس کے گھر میں اس کے بسترے پر جا کر لگا اور اسی سے وہ مرا اس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ ’ وہ تیر تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکا تھا۔ ‘۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:443/13:مرسل و ضعیف] یہ روایت غریب ہے ممکن ہے راوی کو شبہ ہو گیا ہو یا مراد ان کی یہ ہو کہ یہ آیت عام ہے یہ واقعہ بھی اسی میں شامل ہے۔
پھر فرماتا ہے «وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا» ’ تاکہ مومنوں کو اپنی نعمت کا اقرار کرا دے کہ باوجود ان کی کثرت ان کی قلت، ان کے سازو سامان ان کی بےسرو سامانی کے رب العالمین نے انہیں ان پر غالب کر دیا۔‘
حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ نے بڑا اچھا امتحان ہم سے لیا ہے۔} «إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ’ اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مدد اور غلبے کا مستحق کون ہے؟ ‘
پھر فرماتا ہے «ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ اللَّـهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ» ’ اس فتح کے ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سن لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے حیلے حوالے کمزور کر دے گا ان کی شان گھٹا دے گا ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا ‘ اور یہی ہوا بھی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لما انهزم المشركون يوم بدرٍ وقتلهم المسلمونَ: {فلم تقتُلوهم}: بحولِكم وقوَّتكم، {ولكنَّ الله قتلهم}: حيث أعانكم على ذلك بما تقدَّم ذكره، {وما رميتَ إذْ رميتَ ولكنَّ الله رمى}: وذلك أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - وقتَ القتال دخل العريش، وجعل يدعو الله، ويناشده في نصرته ، ثم خرج منه، فأخذ حَفْنَةً من تراب، فرماها في وجوه المشركين، فأوصلها الله إلى وجوههم، فما بقي منهم واحدٌ إلاَّ وقد أصاب وجهَهُ وفمه وعينيه منها ؛ فحينئذ انكسر حدهم وفتر زَندُهم وبان فيهم الفشل والضعف فانهزموا. يقول تعالى لنبيِّه: لستَ بقوَّتك حين رميتَ الترابَ أوصلتَهُ إلى أعينهم، وإنَّما أوصلناه إليهم بقوَّتنا واقتدارنا. {وَلِيُبْلِيَ المؤمنينَ منه بلاءً حسناً}؛ أي: إن الله تعالى قادرٌ على انتصار المؤمنين من الكافرين من دون مباشرةِ قتال، ولكنَّ الله أراد أن يمتحنَ المؤمنين ويوصِلَهم بالجهاد إلى أعلى الدرجات وأرفع المقامات ويعطيهم أجراً حسناً وثواباً جزيلاً. {إنَّ الله سميعٌ عليمٌ}: يسمع تعالى ما أسرَّ به العبد وما أعلن، ويعلم ما في قلبه من النيات الصالحة وضدِّها، فيقدِّر على العباد أقداراً موافقةً لعلمه وحكمته ومصلحة عباده، ويجزي كلاًّ بحسب نيَّته وعمله.