تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمِنَالَّیْلِفَاسْجُدْلَهٗ ﴾”اور رات کو سجدے کرو۔“ یعنی اس کے حضور کثرت سے سجدے کیجیے اور یہ چیز کثرت نماز کو متضمن ہے۔ ﴿ وَسَبِّحْهُلَیْلًاطَوِیْلًا﴾”اور طویل رات تک اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔“ اس مطلق کی تقیید اس ارشاد کے ذریعے سے گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے ﴿ یٰۤاَیُّهَاالْ٘مُزَّمِّلُۙ۰۰قُمِالَّیْلَاِلَّاقَلِیْلًاۙ۰۰نِّصْفَهٗۤاَوِانْقُ٘صْمِنْهُقَلِیْلًاۙ۰۰اَوْزِدْعَلَیْهِوَرَتِّلِالْ٘قُ٘رْاٰنَتَرْتِیْلًا﴾ (المزمل:73؍1-4) ”اے کپڑے میں لپٹنے والے، رات کو تھوڑا سا قیام کیا کیجیے، قیام نصف شب یا اس سے بھی کچھ کم، یا اس سے کچھ زیادہ۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ومن الليل فاسْجُدْ له}؛ أي: أكثر له من السُّجود، وذلك متضمِّن لكثرة الصلاة ، {وسبِّحْه ليلاً طويلاً}: وقد تقدَّم تقييد هذا المطلق بقوله: {يا أيُّها المزَّمِّلُ. قم الليلَ إلاَّ قليلاً. نِصْفَهُ أو انقُصْ منه قليلاً. أو زِدْ عليه ... }.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔