تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 13

مُّتَّکِـِٕیۡنَ فِیۡہَا عَلَی الۡاَرَآئِکِ ۚ لَا یَرَوۡنَ فِیۡہَا شَمۡسًا وَّ لَا زَمۡہَرِیۡرًا ﴿ۚ۱۳﴾
وہ اس میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، نہ اس میں سخت دھوپ دیکھیں گے اور نہ سخت سردی۔ En
ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت
En
یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ جاڑے کی سختی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مُّتَّـكِـــِٕیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآىِٕكِ وہ تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔ (الاتّکاء)سے مراد اطمینان، راحت اور آسودگی کی حالت میں ٹیک لگا کر بیٹھنا۔ اور (الارائک) وہ تخت ہیں جن پر سجاوٹ کے لیے کپڑے بچھائے گئے ہوں۔ ﴿ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا یعنی وہ اس جنت کے اندر نہیں دیکھیں گے ﴿شَمْسًا دھوپ جس کی تپش ان کو نقصان پہنچائے۔ ﴿ وَّلَا زَمْهَرِیْرًا اور نہ سخت سردی یعنی ان کے تمام اوقات گہرے سائے میں گزریں گے، جہاں گرمی ہو گی نہ سردی، جہاں ان کے جسم لذت حاصل کریں گے وہاں ان کے جسموں کو گرمی سے تکلیف ہو گی نہ سردی سے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{متَّكئين فيها على الأرائكِ}: الاتِّكاء: التمكُّن من الجلوس في حال الطُّمأنينة والراحة والرَّفاهية ، والأرائك هي السُّرُر التي عليها اللباس المزيَّن، {لا يَرَوْن فيها}؛ أي: في الجنة {شمساً}: يضرُّهم حرُّها، {ولا زمهريراً}؛ أي: برداً شديداً، بل جميع أوقاتهم في ظلٍّ ظليلٍ، لا حرٌّ ولا بردٌ؛ بحيث تلتذُّ به الأجساد ولا تتألَّم من حرٍّ ولا بردٍ.