تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 14

وَ دَانِیَۃً عَلَیۡہِمۡ ظِلٰلُہَا وَ ذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُہَا تَذۡلِیۡلًا ﴿۱۴﴾
اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے خوشے تابع کردیے جائیں گے، خوب تابع کیا جانا۔ En
ان سے (ثمردار شاخیں اور) ان کے سائے قریب ہوں گے اور میوؤں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے
En
ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے (میوے اور) گچھے نیچے لٹکائے ہوئے ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَدَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا اور ان سے ان کے سائے قریب ہوں گے اور میووں کے گھچے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے۔ یعنی اس کے پھل، اس کے چاہنے والے کے اتنے قریب کر دیے جائیں گے کہ وہ ان کو کھڑے بیٹھے یا لیٹے ہوئے بھی حاصل کر سکے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ودانيةً عليهم ظِلالها وذُلِّلَتْ قطوفُها تذليلاً}؛ أي: قُرِّبَتْ ثمراتها من مريدها تقريباً، ينالها وهو قائمٌ أو قاعدٌ أو مضطجعٌ.