تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَجَزٰىهُمْبِمَاصَبَرُوْا ﴾، یعنی ان کی جزا اس سبب سے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کیا اور استطاعت بھر نیک عمل کیے اور اس سبب سے کہ انھوں نے برائیوں سے اجتناب پر صبر کیا اور ان کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہیں کیا ﴿ جَنَّةً ﴾”جنت ہے۔“ جو ہر نعمت کی جامع اور ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہے ﴿ وَّحَرِیْرًا﴾”اور ریشم ہے“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلِبَاسُهُمْفِیْهَاحَرِیْرٌ ﴾ (الحج:22؍23) ”اور جنت میں ان کا لباس ریشمی ہو گا۔“ شاید اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ریشم کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ ان کا ظاہری لباس ہو گا جو صاحب لباس کے حال پر دلالت کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وجزاهم بما صبروا}: على طاعته فعملوا ما أمكنهم منها، وعن معاصيه فتركوها، وعلى أقداره المؤلمة فلم يتسخَّطوها {جنَّةً}: جامعةً لكلِّ نعيمٍ سالمةً من كلِّ مكدِّرٍ ومنغِّص، {وحريراً}؛ كما قال تعالى: {ولباسُهم فيها حريرٌ}: ولعلَّ اللهَ إنَّما خصَّ الحريرَ لأنَّه لباسهم الظَّاهر الدالُّ على حال صاحبه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔