تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 11

فَوَقٰہُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الۡیَوۡمِ وَ لَقّٰہُمۡ نَضۡرَۃً وَّ سُرُوۡرًا ﴿ۚ۱۱﴾
پس اللہ نے انھیں اس دن کی مصیبت سے بچا لیا اور انھیں انوکھی تازگی اور خوشی عطا فرمائی۔ En
تو خدا ان کو اس دن کی سختی سے بچالے گا اور تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا
En
پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ پس اللہ ان کو اس دن کے شر سے بچالے گا۔ پس انھیں وہ عظیم گھبراہٹ غم زدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے یہ وہ دن ہے جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ ﴿ وَلَقّٰىهُمْ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز کرے گا ﴿نَضْرَۃً یعنی ان کے چہروں کو تازگی عطا کرے گا ﴿ وَّسُرُوْرًا اور ان کے دلوں کو سرور سے لبریز کرے گا، پس اللہ تعالیٰ ان کے لیے ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اکٹھا کر دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فوقاهُمُ اللهُ شرَّ ذلك اليوم}: فلا يحزنهم الفزعُ الأكبر، وتتلقَّاهم الملائكة هذا يومكم الذي كنتُم توعدون، {ولَقَّاهُم}؛ أي: أكرمهم وأعطاهم {نضرةً}: في وجوههم، {وسروراً}: في قلوبهم، فجمع لهم بين نعيم الظَّاهر والباطن.