تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَوَقٰىهُمُاللّٰهُشَرَّذٰلِكَالْیَوْمِ ﴾”پس اللہ ان کو اس دن کے شر سے بچالے گا۔“ پس انھیں وہ عظیم گھبراہٹ غم زدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے ”یہ وہ دن ہے جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔“﴿ وَلَقّٰىهُمْ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز کرے گا ﴿نَضْرَۃً﴾ یعنی ان کے چہروں کو تازگی عطا کرے گا ﴿ وَّسُرُوْرًا﴾ اور ان کے دلوں کو سرور سے لبریز کرے گا، پس اللہ تعالیٰ ان کے لیے ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اکٹھا کر دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فوقاهُمُ اللهُ شرَّ ذلك اليوم}: فلا يحزنهم الفزعُ الأكبر، وتتلقَّاهم الملائكة هذا يومكم الذي كنتُم توعدون، {ولَقَّاهُم}؛ أي: أكرمهم وأعطاهم {نضرةً}: في وجوههم، {وسروراً}: في قلوبهم، فجمع لهم بين نعيم الظَّاهر والباطن.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔