تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا: ﴿ اَیَحْسَبُالْاِنْسَانُاَنْیُّتْرَكَسُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمْیَكُنُطْفَةًمِّنْمَّنِیٍّیُّمْنٰىۙ۰۰ثُمَّكَانَ﴾”کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟“ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَمِنْهُالزَّوْجَیْنِالذَّكَرَوَالْاُنْثٰى۰۰اَلَ٘یْسَذٰلِكَ ﴾”پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔“ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍعَلٰۤىاَنْیُّحْیَِۧالْمَوْتٰى﴾”اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟“ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكَّر الإنسان بخَلْقِهِ الأوَّل، فقال: {أيحسبُ الإنسانُ أن يُتْرَكَ سُدىً}؛ أي: مهملاً لا يؤمر ولا ينهى ولا يُثاب ولا يعاقب؟ هذا حسبانٌ باطلٌ وظنٌّ بالله غير ما يليق بحكمته. {ألم يكُ نطفةً مِن مَنِيٍّ يُمْنى. ثمَّ كان}: بعد المنيِّ {علقةً}؛ أي: دماً، {فَخَلَقَ}: الله منها الحيوان، وسواه؛ أي: أتقنه وأحكمه، {فجعل منه الزوجين الذَّكر والأنثى. أليس ذلك}؛ أي: الذي خلق الإنسان وطوَّره إلى هذه الأطوار المختلفة {بقادرٍ على أن يُحْيِيَ الموتى؟}: بلى إنَّه على كلِّ شيءٍ قديرٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔