اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ یُّتۡرَکَ سُدًی ﴿ؕ۳۶﴾
کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے بغیر پوچھے ہی چھوڑ دیا جائے گا؟
En
کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟
En
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 36تا40) ➊ {اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى …: ” سُدًى “} وہ اونٹ جو کھلے چھوڑ دیے جائیں، انھیں {”إِبِلٌ سُدًي“} کہتے ہیں، یعنی کھلا چھوڑا ہوا، جس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ {” يُمْنٰى “ ”أَمْنٰي يُمْنِيْ“} (افعال) سے مضارع مجہول ہے، گرایا جاتا ہے، ٹپکایا جاتاہے۔
➋ حشر و نشر کے منکر اس بات کو ناممکن قرار دیتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں دوبارہ زندہ ہوں گی اور ان کا محاسبہ ہو گا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوبارہ زندہ کرکے اس سے حساب لینے کی دلیل بیان فرمائی ہے کہ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے پوچھے بغیر ہی رہنے دیا جائے گا؟ نہیں،یہ غلط سوچ ہے، جس قادر مطلق نے پانی جیسی پتلی چیز کی ایک بوند کو رحم مادر میں جمے ہوئے خون میں بدلنے کے بعد گوشت، ہڈیاں اور تمام اعضا مکمل کرکے روح پھونک کر مرد یا عورت کی صورت والا زندہ انسان بنا دیا، تو اس کے لیے اسی کی مٹی کو دوبارہ اصل شکل میں لے آنا کیا مشکل ہے؟
اس کے علاوہ اگر انسان اپنی اصل پر غور کرے کہ وہ ایک حقیر قطرہ تھا جو باپ کے ان اعضا سے ماں کے ان اعضا میں گرایا گیا جن کا نام بھی شرم و حیا کی وجہ سے نہیں لیا جاتا، پھر وہاں مختلف مراحل سے گزار کر اس کی مکمل صورت گری کے بعد اسے اسی راستے سے واپس لایا گیا جس کا ذکر ہی موجب حیا ہے۔ اب کیا انسان کو یہ زیب دیتا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سرکشی کرے اور اکڑ کر چلے اور یہ سمجھے کہ اسے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں؟
➋ حشر و نشر کے منکر اس بات کو ناممکن قرار دیتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں دوبارہ زندہ ہوں گی اور ان کا محاسبہ ہو گا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوبارہ زندہ کرکے اس سے حساب لینے کی دلیل بیان فرمائی ہے کہ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے پوچھے بغیر ہی رہنے دیا جائے گا؟ نہیں،یہ غلط سوچ ہے، جس قادر مطلق نے پانی جیسی پتلی چیز کی ایک بوند کو رحم مادر میں جمے ہوئے خون میں بدلنے کے بعد گوشت، ہڈیاں اور تمام اعضا مکمل کرکے روح پھونک کر مرد یا عورت کی صورت والا زندہ انسان بنا دیا، تو اس کے لیے اسی کی مٹی کو دوبارہ اصل شکل میں لے آنا کیا مشکل ہے؟
اس کے علاوہ اگر انسان اپنی اصل پر غور کرے کہ وہ ایک حقیر قطرہ تھا جو باپ کے ان اعضا سے ماں کے ان اعضا میں گرایا گیا جن کا نام بھی شرم و حیا کی وجہ سے نہیں لیا جاتا، پھر وہاں مختلف مراحل سے گزار کر اس کی مکمل صورت گری کے بعد اسے اسی راستے سے واپس لایا گیا جس کا ذکر ہی موجب حیا ہے۔ اب کیا انسان کو یہ زیب دیتا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سرکشی کرے اور اکڑ کر چلے اور یہ سمجھے کہ اسے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
36۔ 1 یعنی اس کو کسی چیز کا حکم دیا جائے گا، نہ کسی چیز سے منع کیا جائے گا، نہ اس کا محاسبہ ہوگا۔ یا اس کی قبر میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا جائے گا، وہاں سے اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا [20] ہے کہ اسے شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا جائے گا
[20] یعنی اللہ نے انسان کو بے شمار ایسی قوتیں عطا فرمائی ہیں جو دوسرے جانداروں کو عطا نہیں کی گئیں۔ لہٰذا جو انسان یہ سمجھتا ہے کہ جس طرح دوسرے جاندار پیدا ہوتے اور مر جاتے ہیں اور ان پر کسی طرح کی کچھ ذمہ داری نہیں اسی طرح انسان کا بھی حال ہے۔ اس کی یہ سوچ نہایت احمقانہ اور غیر دانشمندانہ ہے۔ اسے دوسرے جانداروں سے ممتاز کرنے کی آخر اللہ میاں کو کیا ضرورت تھی؟ بلکہ اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ اگر انسان کی زندگی بھی ویسی ہی غیر ذمہ دارانہ سمجھی جائے جیسے دوسرے جانداروں کی ہے تو انسان کو پیدا کرنے کی ہی کیا ضرورت تھی؟ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا: ﴿ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ”کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟“ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى۰۰ اَلَ٘یْسَ ذٰلِكَ ﴾ ”پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔“ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى﴾ ”اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟“ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكَّر الإنسان بخَلْقِهِ الأوَّل، فقال: {أيحسبُ الإنسانُ أن يُتْرَكَ سُدىً}؛ أي: مهملاً لا يؤمر ولا ينهى ولا يُثاب ولا يعاقب؟ هذا حسبانٌ باطلٌ وظنٌّ بالله غير ما يليق بحكمته. {ألم يكُ نطفةً مِن مَنِيٍّ يُمْنى. ثمَّ كان}: بعد المنيِّ {علقةً}؛ أي: دماً، {فَخَلَقَ}: الله منها الحيوان، وسواه؛ أي: أتقنه وأحكمه، {فجعل منه الزوجين الذَّكر والأنثى. أليس ذلك}؛ أي: الذي خلق الإنسان وطوَّره إلى هذه الأطوار المختلفة {بقادرٍ على أن يُحْيِيَ الموتى؟}: بلى إنَّه على كلِّ شيءٍ قديرٌ.