تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَاصَدَّقَ﴾”پس نہ اس نے تصدیق کی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَاصَلّٰى۰۰وَلٰكِنْكَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤىاَهْلِهٖ٘یَ٘تَ٘مَطّٰى﴾” اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا“ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولكنَّ المعاند الذي لا تنفع فيه الآياتُ لا يزال مستمرًّا على غيِّه وكفره وعناده، {فلا صدَّقَ}؛ أي لا آمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشرِّه، {ولا صلَّى. ولكن كذَّبَ}: بالحقِّ في مقابلة التصديق، {وتولَّى}: عن الأمر والنَّهي، هذا وهو مطمئنٌّ قلبهُ غير خائفٍ من ربِّه، بل {ذهب إلى أهله يَتَمَطَّى}؛ أي: ليس على بَالِه شيءٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔