تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلَاۤاُ٘قْسِمُبِالنَّ٘فْ٘سِاللَّوَّامَةِ﴾”اور نفس لوامہ کی قسم!“ اس سے مراد تمام نیک اور بد نفوس ہیں۔ نفس کو اس کے کثرت تردود، اسے ملامت کرنے اور اپنے احوال میں سے کسی حال پر بھی اس کے عدم ثبات کی بنا پر (لَوَّامۃ) سے موسوم کیا گیا ہے، نیز اس بنا پر اس کو ”لوامہ“ کہا گیا ہے کہ یہ موت کے وقت انسان کو اس کے افعال پر ملامت کرے گا مگر مومن کا نفس اسے دنیا ہی میں اس کوتاہی، تقصیر اور غفلت پر ملامت کرتا ہے جو حقوق میں سے کسی حق کے بارے میں اس سے ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولا أقسم بالنَّفس اللَّوَّامةِ}: وهي جميع النفوس الخيِّرة والفاجرة، سميِّت لوَّامةً لكثرة تلوُّنها وتردُّدها وعدم ثبوتها على حالةٍ من أحوالها، ولأنَّها عند الموت تلوم صاحبها على ما فعلت ، بل نفسُ المؤمن تلومُ صاحبها في الدُّنيا على ما حصل منه من تفريطٍ أو تقصيرٍ في حقٍّ من الحقوق أو غفلةٍ، فجمع بين الإقسام بالجزاء وعلى الجزاء وبين مستحقِّ الجزاء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔