تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القيامة (75) — آیت 3

اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَہٗ ؕ﴿۳﴾
کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔ En
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے؟
En
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّ٘نْ نَّ٘جْمَعَ عِظَامَهٗ کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکھٹی نہیں کریں گے۔ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَهِیَ رَمِیْمٌ (یٰسین:36؍78) کہنے لگا: جب ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو ان کو کون زندگی عطا کرے گا؟ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں، قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کا رد کیا: ﴿بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ کیوں نہیں! ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔ مراد ہے اس کی انگلیوں کی اطراف اور اس کی ہڈیاں اور یہ بدن کے اجزا کی تخلیق کو مستلزم ہے، کیونکہ جب انگلیوں کے اطراف اور پور وجود میں آ گئے تو جسد کی تخلیق ہو گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أخبر مع هذا أنَّ بعض المعاندين يكذِّبون بيوم القيامة، فقال: {أيحسبُ الإنسانُ أن لن نَجْمَعَ عظامَه}: بعد الموت؛ كما قال [في الآية الأخرى]: {قال مَن يُحيي العظامَ وهي رميمٌ}، فاستبعد من جهله وعدوانه قدرةَ الله على خلق عظامه التي هي عمادُ البدن، فردَّ عليه بقوله: {بلى قادرينَ على أن نُسَوِّيَ بَنانَه}؛ أي: أطراف أصابعه وعظامه، وذلك مستلزمٌ لخلق جميع أجزاء البدن؛ لأنَّها إذا وُجِدت الأنامل والبنان؛ فقد تمَّتْ خلقة الجسد.