تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القيامة (75) — آیت 1

لَاۤ اُقۡسِمُ بِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۙ﴿۱﴾
نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں! En
ہم کو روز قیامت کی قسم
En
میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے اس کا استعمال نادر نہیں ہے، اگرچہ اس کو استفتاح کلام کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔
اس مقام پر جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، وہی ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا، لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا، پھر (اللہ تعالیٰ کے حضور) ان کو کھڑا کیا جائے گا، وہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ليست {لا} ها هنا نافية ولا زائدة، وإنَّما أتي بها للاستفتاح والاهتمام بما بعدها، ولكثرة الإتيان بها مع اليمين لا يستغرب الاستفتاح بها، وإن لم تكن في الأصل موضوعة للاستفتاح؛ فالمقسم به في هذا الموضع هو المقسَم عليه، وهو البعث بعد الموت، وقيام الناس من قبورهم، ثم وقوفهم ينتظرون ما يَحْكُمُ به الربُّ عليهم.