تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلَاتَمْنُ٘نْتَسْتَكْثِرُ﴾ یعنی آپ نے لوگوں پر جو دینی اور دنیاوی احسانات کیے ہیں، انھیں جتلائیں نہیں کہ اس احسان کے بدلے زیادہ حاصل کریں اور ان احسانات کی وجہ سے اپنے آپ کو لوگوں سے افضل سمجھیں بلکہ جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو آپ لوگوں پر احسان کریں، پھر ان پر اپنے اس احسان کو بھول جایے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کیجیے۔ جس پر آپ نے احسان کیا ہے اسے اور دوسروں کو برابر سطح پر رکھیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز اس لیے عطا نہ کریں کہ آپ کا ارادہ ہو کہ وہ آپ کو اس سے بڑھ کر بدلہ عطا کرے، تب یہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مختص ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولا تَمْنُنْ تَسْتَكثِرْ}؛ أي: لا تمنُنْ على الناس بما أسديت إليهم من النعم الدينيَّة والدنيويَّة، فتستكثر بتلك المنَّة، وترى لك الفضل عليهم ، بل أحسِنْ إلى الناس مهما أمكنك، وانْسَ عندهم إحسانَك، واطلُبْ أجرك من الله تعالى ، واجعلْ مَن أحسنتَ إليه وغيره على حدٍّ سواء.
وقد قيل: إنَّ معنى هذا ألاَّ تعطي أحداً شيئاً وأنت تريدُ أن يكافِئَك عليه بأكثر منه، فيكون هذا خاصًّا بالنبيِّ صلى الله عليه وسلم .
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔