تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب آپ ظاہری طہارت پر مامور ہیں کیونکہ ظاہری طہارت، باطنی طہارت کی تکمیل کرتی ہے تو فرمایا: ﴿وَالرُّجْزَفَاهْجُرْ﴾”اور ناپاکی سے دور رہیں۔“ ایک احتمال یہ ہے کہ (الرُّجْزَ) سے مراد بت اور مورتی ہوں، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کو ترک کر دیں، ان سے براء ت کا اعلان کریں، نیز ان تمام اقوال و افعال سے بیزار ہوں جو ان کی طرف منسوب ہیں۔ایک احتمال یہ بھی ہے کہ (اَلرُّجْزَ)سے مراد تمام اعمال شر اور اقوال شر ہوں، تب آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ تمام چھوٹے اور بڑے، ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دیں۔ اس حکم میں شرک اور اس سے کم تر تمام گناہ داخل ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وإذا كان مأموراً بطهارة الظَّاهر؛ فإنَّ طهارة الظاهر من تمام طهارة الباطن: {والرُّجْزَ فاهْجُرْ}: يُحتمل أنَّ المراد بالرجز الأصنام والأوثان التي عُبِدَتْ مع الله، فأمره بتركها والبراءة منها ومما نُسِبَ إليها من قول أو عمل، ويُحتمل أنَّ المرادَ بالرُّجز أعمالُ الشرِّ كلُّها وأقوالُه، فيكون أمراً له بترك الذُّنوب صغارها وكبارها ظاهرها وباطنها، فيدخل في هذا الشرك فما دونه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔