تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المزمل (73) — آیت 12

اِنَّ لَدَیۡنَاۤ اَنۡکَالًا وَّ جَحِیۡمًا ﴿ۙ۱۲﴾
بلاشبہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور سخت بھڑکتی ہوئی آگ۔ En
کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے
En
یقیناً ہمارے ہاں سخت بیڑیاں ہیں اور سلگتی ہوئی جہنم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہمارے پاس ﴿ اَنْكَالًا سخت عذاب ہے، اسے ہم نے اس شخص کے لیے عبرتناک سزا بنایا ہے جو ان امور پر جما ہوا ہے جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ ﴿ وَّجَحِیْمًا اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے ﴿ وَّطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ اور گلو گیر کھانا یہ اچُّھو اس کھانے کی تلخی، بدمزگی، اس کے ذائقے کی کراہت اور اس کی بے انتہا گندی بدبو کی بنا پر لگے گا۔ ﴿ وَّعَذَابً٘ا اَلِیْمًا اور انتہائی درد ناک اور تکلیف دہ عذاب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: إنَّ عندنا {أنكالاً}؛ أي: عذاباً شديداً جعلناه تنكيلاً للذي لا يزال مستمرًّا على ما يغضِبُ الله، {وجحيماً}؛ أي: ناراً حامية، {وطعاماً ذا غُصَّةٍ} وذلك لمرارته وبشاعته وكراهة طعمه وريحه الخبيث المنتن، {وعذاباً أليماً}؛ أي: موجعاً مفظعاً.