تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی ہمارے پاس ﴿ اَنْكَالًا﴾ سخت عذاب ہے، اسے ہم نے اس شخص کے لیے عبرتناک سزا بنایا ہے جو ان امور پر جما ہوا ہے جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ ﴿ وَّجَحِیْمًا﴾ اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے ﴿ وَّطَعَامًاذَاغُصَّةٍ﴾” اور گلو گیر کھانا“ یہ اچُّھو اس کھانے کی تلخی، بدمزگی، اس کے ذائقے کی کراہت اور اس کی بے انتہا گندی بدبو کی بنا پر لگے گا۔ ﴿ وَّعَذَابً٘ااَلِیْمًا﴾ اور انتہائی درد ناک اور تکلیف دہ عذاب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: إنَّ عندنا {أنكالاً}؛ أي: عذاباً شديداً جعلناه تنكيلاً للذي لا يزال مستمرًّا على ما يغضِبُ الله، {وجحيماً}؛ أي: ناراً حامية، {وطعاماً ذا غُصَّةٍ} وذلك لمرارته وبشاعته وكراهة طعمه وريحه الخبيث المنتن، {وعذاباً أليماً}؛ أي: موجعاً مفظعاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔