تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
فرمایا: ﴿وَذَرْنِیْوَالْمُكَذِّبِیْنَ۠﴾ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِیالنَّعْمَةِ﴾یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ كَلَّاۤاِنَّالْاِنْسَانَلَ٘یَطْغٰۤىۙ۰۰اَنْرَّاٰهُاسْتَغْنٰى﴾ (العلق96؍6-7) ”ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وذرني والمكذِّبينَ}؛ أي: اتركْني وإيَّاهم، فسأنتقم منهم، وإنْ أمْهَلْتُهم؛ فلا أهمِلُهم. وقوله: {أولي النَّعْمةِ}؛ أي: أصحاب النَّعمة والغنى، الذين طَغَوْا حين وسَّع الله عليهم من رزقه وأمدَّهم من فضله؛ كما قال تعالى: {كلاَّ إنَّ الإنسانَ لَيَطْغى. أن رآه استَغْنى}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔