تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المزمل (73) — آیت 11

وَ ذَرۡنِیۡ وَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ اُولِی النَّعۡمَۃِ وَ مَہِّلۡہُمۡ قَلِیۡلًا ﴿۱۱﴾
اور چھوڑ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو جو خوش حال ہیں اور انھیں تھوڑی سی مہلت دے۔ En
اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو دولتمند ہیں سمجھ لینے دو اور ان کو تھوڑی سی مہلت دے دو
En
اور مجھے اور ان جھٹلانے والے آسوده حال لوگوں کو چھوڑ دے اور انہیں ذرا سی مہلت دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

فرمایا: ﴿وَذَرْنِیْ وَالْمُكَذِّبِیْنَ۠ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِی النَّعْمَةِیعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَ٘یَطْغٰۤىۙ۰۰ اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى (العلق96؍6-7) ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وذرني والمكذِّبينَ}؛ أي: اتركْني وإيَّاهم، فسأنتقم منهم، وإنْ أمْهَلْتُهم؛ فلا أهمِلُهم. وقوله: {أولي النَّعْمةِ}؛ أي: أصحاب النَّعمة والغنى، الذين طَغَوْا حين وسَّع الله عليهم من رزقه وأمدَّهم من فضله؛ كما قال تعالى: {كلاَّ إنَّ الإنسانَ لَيَطْغى. أن رآه استَغْنى}.