ترجمہ و تفسیر — سورۃ المزمل (73) — آیت 12

اِنَّ لَدَیۡنَاۤ اَنۡکَالًا وَّ جَحِیۡمًا ﴿ۙ۱۲﴾
بلاشبہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور سخت بھڑکتی ہوئی آگ۔ En
کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے
En
یقیناً ہمارے ہاں سخت بیڑیاں ہیں اور سلگتی ہوئی جہنم ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13،12) {اِنَّ لَدَيْنَاۤ اَنْكَالًا …: اَنْكَالًا نِكْلٌ} (نون کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، جانور کے پاؤں کی زنجیر اور لگام کے لوہے والے حصے کو کہتے ہیں۔ { جَحِيْمًا جَحْمَةٌ} (آگ کا سخت بھڑکنا) سے مشتق ہے۔(راغب) { ذَا غُصَّةٍ } جو گلے میں پھنس جائے، نہ نگل سکے نہ اگل سکے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ ہمارے پاس (ان لوگوں کے لیے) بیڑیاں [13] بھی ہیں اور دوزخ بھی
[13] یہ آسودہ حال لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت اور مخالفت میں پیش پیش ہیں۔ انہیں سزا دینے کے لئے ہمارے پاس بہت کچھ ہے۔ وزنی بیڑیاں بھی جن کے بوجھ کی وجہ سے ہل تک نہ سکیں گے۔ انہیں بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا کھانے کو تھوہر کا درخت ہو گا جو بھوک کی مجبوری کی وجہ سے کھانے کی کوشش کریں گے مگر اس سے گلے میں پھندا لگ جائے گا اور بڑی مشکل سے نیچے اترے گا۔ اس کے علاوہ دردناک سزا بھی ملے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہمارے پاس ﴿ اَنْكَالًا سخت عذاب ہے، اسے ہم نے اس شخص کے لیے عبرتناک سزا بنایا ہے جو ان امور پر جما ہوا ہے جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ ﴿ وَّجَحِیْمًا اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے ﴿ وَّطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ اور گلو گیر کھانا یہ اچُّھو اس کھانے کی تلخی، بدمزگی، اس کے ذائقے کی کراہت اور اس کی بے انتہا گندی بدبو کی بنا پر لگے گا۔ ﴿ وَّعَذَابً٘ا اَلِیْمًا اور انتہائی درد ناک اور تکلیف دہ عذاب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: إنَّ عندنا {أنكالاً}؛ أي: عذاباً شديداً جعلناه تنكيلاً للذي لا يزال مستمرًّا على ما يغضِبُ الله، {وجحيماً}؛ أي: ناراً حامية، {وطعاماً ذا غُصَّةٍ} وذلك لمرارته وبشاعته وكراهة طعمه وريحه الخبيث المنتن، {وعذاباً أليماً}؛ أي: موجعاً مفظعاً.