تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 24

حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَا یُوۡعَدُوۡنَ فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا ﴿۲۴﴾
(یہ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب وہ چیز دیکھ لیں گے جس کاان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو ضرور جان لیں گے کہ کون ہے جو مدد گار کے اعتبار سے زیادہ کمزور ہے اور جو تعداد میں زیادہ کم ہے؟ En
یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (دن) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہو جائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہے
En
(ان کی آنکھ نہ کھلے گی) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعده دیا جاتا ہے پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ یعنی جب وہ عیاں طور پر اس کا مشاہدہ کریں گے اور انھیں یقین آ جائے گا کہ وہ ان پر واقع ہونے والا ہے ﴿فَسَیَعْلَمُوْنَ۠ تب انھیں حقیقت معلوم ہو گی کہ ﴿ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَ٘قَلُّ عَدَدًامددگار کس کے کمزور ہیں اور شمار کن کاتھوڑا ہے۔ جب کوئی دوسرا ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود اپنی مدد کر سکیں گے اور جب انھیں اکیلے اکیلے اٹھایا جائے گا جیسا کہ وہ پہلی مرتبہ پیدا کیے گئے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{حتى إذا رأوا ما يوعدونَ}؛ أي: شاهدوه عياناً وجزموا أنَّه واقعٌ بهم، {فسيعلمون}: في ذلك الوقت حقيقة المعرفة، {مَنْ أضعفُ ناصراً وأقلُّ عدداً}: حين لا ينصرُهُم غيرهم، ولا أنفسهم ينتصِرونَ، وإذْ يُحْشَرون فرادى كما خُلِقوا أوَّلَ مرَّةٍ.