مگر (میں تو صرف) اللہ کے احکام پہنچانے اور اس کے پیغامات کا (اختیار رکھتا ہوں) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو یقینا اسی کے لیے جہنم کی آگ ہے، ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں ہمیشہ۔
En
ہاں خدا کی طرف سے احکام کا اور اس کے پیغاموں کا پہنچا دینا (ہی) میرے ذمے ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لئے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے
البتہ (میرا کام) اللہ کی بات اور اس کے پیغامات (لوگوں کو) پہنچا دینا ہے، (اب) جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِلَّابَلٰغًامِّنَاللّٰهِوَرِسٰؔلٰ٘تِهٖ﴾ مجھے لوگوں پر کوئی خصوصیت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق تک اپنی رسالت پہنچانے اور ان کو اپنی طرف دعوت دینے کے لیے مجھے مختص کیا ہے اور اسی سے لوگوں پر حجت قائم ہوتی ہے۔ ﴿وَمَنْیَّعْصِاللّٰهَوَرَسُوْلَهٗفَاِنَّلَهٗنَارَجَهَنَّمَخٰؔلِدِیْنَفِیْهَاۤاَبَدًا﴾”اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، ایسے لوگ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔“ اس سے مراد معصیتِ کفر یہ ہے جیسا کہ دیگر محکم نصوص اس کو مقید کرتی ہیں۔رہی مجرد معصیت تو وہ جہنم میں خلود کی موجب نہیں جیسا کہ قرآن کی آیات اورنبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث دلالت کرتی ہیں، اس پر امت کے تمام اسلاف اور تمام ائمہ کا اجماع ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إلاَّ بلاغاً من الله ورسالاتِهِ}؛ أي: ليس لي مزيَّةٌ على الناس إلاَّ أنَّ الله خصَّني بإبلاغ رسالاته ودعوة خلقِهِ إليه ، وبذلك تقوم الحجَّةُ على الناس، {ومن يَعْصِ الله ورسولَه فإنَّ له نارَ جهنَّمَ خالدين فيها أبداً}: وهذا المراد به المعصية الكفريَّة كما قيَّدتها النُّصوص الأخر المحكمة، وأمَّا مجرَّد المعصية؛ فإنَّه لا يوجب الخلود في النار؛ كما دلَّت على ذلك آيات القرآن والأحاديث عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -، وأجمع عليه سَلَفُ الأمَّة وأئمَّة هذه الأمَّة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔