تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قُ٘لْ﴾”کہہ دیجیے:“ اگر وہ آپ سے پوچھیں: ﴿مَتٰىهٰؔذَاالْوَعْدُ ﴾ (یونس: 48/10)”یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟“ تو ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنْاَدْرِیْۤاَ٘قَ٘رِیْبٌمَّاتُوْعَدُوْنَاَمْیَجْعَلُلَهٗرَبِّیْۤاَمَدًا﴾”میں نہیں جانتا کہ تم سے جو وعدہ کیا جاتاہے، وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کی مدت دراز کردی ہے؟“ یعنی وہ کوئی طویل مدت مقرر کرتا ہے تو اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ مخلوق میں سے کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ وہ اکیلا ہی ضمائر، اسرار اور غیوب کا علم رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل} لهم إنْ سألوك فقالوا: متى هذا الوعد؟: {إنْ أدري أقريبٌ ما توعدونَ أمْ يجعلُ له ربِّي أمداً}؛ أي: غايةً طويلةً؛ فعلمُ ذلك عند الله {عالمُ الغيب فلا يُظْهِرُ على غيبِهِ أحداً}: من الخلق، بل انفرد بعلم الضمائر والأسرار والغيوب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔