تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 25

قُلۡ اِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ اَمۡ یَجۡعَلُ لَہٗ رَبِّیۡۤ اَمَدًا ﴿۲۵﴾
کہہ دے میں نہیں جانتا آیا وہ چیز قریب ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، یا میرا رب اس کے لیے کچھ مدت رکھے گا۔ En
کہہ دو کہ جس (دن) کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ (عن) قریب (آنے والا ہے) یا میرے پروردگار نے اس کی مدت دراز کر دی ہے
En
کہہ دیجئے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس کا وعده تم سے کیا جاتا ہے وه قریب ہے یا میرا رب اس کے لیے دور کی مدت مقرر کرے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ کہہ دیجیے: اگر وہ آپ سے پوچھیں: ﴿مَتٰى هٰؔذَا الْوَعْدُ (یونس: 48/10)یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ تو ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنْ اَدْرِیْۤ اَ٘قَ٘رِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا میں نہیں جانتا کہ تم سے جو وعدہ کیا جاتاہے، وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کی مدت دراز کردی ہے؟ یعنی وہ کوئی طویل مدت مقرر کرتا ہے تو اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ مخلوق میں سے کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ وہ اکیلا ہی ضمائر، اسرار اور غیوب کا علم رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل} لهم إنْ سألوك فقالوا: متى هذا الوعد؟: {إنْ أدري أقريبٌ ما توعدونَ أمْ يجعلُ له ربِّي أمداً}؛ أي: غايةً طويلةً؛ فعلمُ ذلك عند الله {عالمُ الغيب فلا يُظْهِرُ على غيبِهِ أحداً}: من الخلق، بل انفرد بعلم الضمائر والأسرار والغيوب.