تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 21

قُلۡ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا ﴿۲۱﴾
کہہ دے بلاشبہ میں تمھارے لیے نہ کوئی نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا۔ En
(یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا
En
کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نقصان نفع کا اختیار نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم كو كہا جا رہا ہے کہ آپ انھیں اس بات کی وضاحت کردیں کہ میں تو ایک بندہ ہوں، معاملے اور تصرف میں مجھے کوئی اختیار نہیں۔ ﴿ قُ٘لْ اِنِّیْ لَ٘نْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ کہہ دیجیے: مجھے ہرگز کوئی اللہ سے نہیں بچا سکتا یعنی میں کسی سے فریاد رسی نہیں چاہتا جو مجھے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو مخلوق میں کامل ترین ہستی ہیں کسی نقصان اور رشد و ہدایت کا اختیار نہیں رکھتے، اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو آپ اپنے آپ کو اس سے بچا نہیں سکتے توپھر مخلوق میں سے دیگر لوگوں کا اپنے آپ کو بچانے پر قادر نہ ہونا اولیٰ و احری ہے۔ ﴿ وَّلَ٘نْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا اور اس کے سوا میں کوئی پناہ گاہ اور بچ نکلنے کی جگہ نہیں پاتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل إنِّي لا أملِكُ لكم ضَرًّا ولا رَشَداً}: فإنِّي عبدٌ ليس لي من الأمر والتصرُّفِ شيءٌ ، {قلْ إنِّي لن يُجيرَني من اللهِ أحدٌ}؛ أي: لا أحدَ أستجير به ينقذني من عذاب الله، وإذا كان الرسولُ الذي هو أكملُ الخلق لا يملكُ ضرًّا ولا رشداً ولا يمنعُ نفسَه من الله شيئاً إن أراده بسوءٍ؛ فغيرُهُ من الخلق من باب أولى وأحرى، {ولن أجدَ من دونِهِ مُلْتَحَداً}؛ أي: ملجأ ومنتصراً.