ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجن (72) — آیت 21

قُلۡ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا ﴿۲۱﴾
کہہ دے بلاشبہ میں تمھارے لیے نہ کوئی نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا۔ En
(یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا
En
کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نقصان نفع کا اختیار نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21){ قُلْ اِنِّيْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صاف اعلان کرنے کا حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کے لیے نہ نفع کے مالک ہیں نہ نقصان کے اور نہ ہی ہدایت اور گمراہی کا اختیار رکھتے ہیں۔ { ضَرًّا } کے مقابلے میں {نَفْعًا} اور { رَشَدًا } کے مقابلے میں {غَيًّا} حذف کر دیا ہے، کیونکہ وہ الفاظ خود بخود معلوم ہو رہے ہیں۔
ایک اور مقام پر یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے نفع یا نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ (دیکھیے اعراف: ۱۸۸) اور کئی مقامات پر واضح فرمایا کہ اللہ کے علاوہ جن لوگوں کو بھی پکارا جاتا ہے وہ ذرہ برابر چیز کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ (مثلاً دیکھیے سبا:۲۲۔ فاطر:۱۳) اتنی صراحت کے بعد بھی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یا دوسرے انبیاء و اولیاء کو اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھے تو اسے خود ہی سوچنا چاہیے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے فرمان کی کیا قدر کی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

21۔ 1 یعنی مجھے تمہاری ہدایت یا گمراہی کا یا کسی اور نفع نقصان کا اختیار نہیں ہے میں تو صرف اس کا ایک بندہ ہوں جسے اللہ نے وحی و رسالت کے لیے چن لیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ کہیے کہ: میں تمہارے لیے نہ کسی نقصان [19] کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا
[19] میرے اختیار میں صرف اتنی ہی بات ہے کہ اللہ کی طرف سے مجھ پر جو وحی آتی ہے وہ میں تم لوگوں تک پہنچا دوں۔ اگر اسے تسلیم کر لو گے تو اس میں یقیناً تمہارا فائدہ ہے۔ مگر یہ میرے اختیار میں نہیں کہ تم کو بھی راہ راست پرلے آؤں یا اگر نہ آؤ تو تمہیں کچھ نقصان پہنچا سکوں۔ ہر طرح کا فائدہ اور نقصان اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم كو كہا جا رہا ہے کہ آپ انھیں اس بات کی وضاحت کردیں کہ میں تو ایک بندہ ہوں، معاملے اور تصرف میں مجھے کوئی اختیار نہیں۔ ﴿ قُ٘لْ اِنِّیْ لَ٘نْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ کہہ دیجیے: مجھے ہرگز کوئی اللہ سے نہیں بچا سکتا یعنی میں کسی سے فریاد رسی نہیں چاہتا جو مجھے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو مخلوق میں کامل ترین ہستی ہیں کسی نقصان اور رشد و ہدایت کا اختیار نہیں رکھتے، اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو آپ اپنے آپ کو اس سے بچا نہیں سکتے توپھر مخلوق میں سے دیگر لوگوں کا اپنے آپ کو بچانے پر قادر نہ ہونا اولیٰ و احری ہے۔ ﴿ وَّلَ٘نْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا اور اس کے سوا میں کوئی پناہ گاہ اور بچ نکلنے کی جگہ نہیں پاتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل إنِّي لا أملِكُ لكم ضَرًّا ولا رَشَداً}: فإنِّي عبدٌ ليس لي من الأمر والتصرُّفِ شيءٌ ، {قلْ إنِّي لن يُجيرَني من اللهِ أحدٌ}؛ أي: لا أحدَ أستجير به ينقذني من عذاب الله، وإذا كان الرسولُ الذي هو أكملُ الخلق لا يملكُ ضرًّا ولا رشداً ولا يمنعُ نفسَه من الله شيئاً إن أراده بسوءٍ؛ فغيرُهُ من الخلق من باب أولى وأحرى، {ولن أجدَ من دونِهِ مُلْتَحَداً}؛ أي: ملجأ ومنتصراً.