تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 20

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِہٖۤ اَحَدًا ﴿۲۰﴾
کہہ دے میں تو صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ En
کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا
En
آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ اے رسول! جس چیز کی طرف آپ دعوت دے رہے ہیں، اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَلَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا بے شک میں اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ کو ایک مانتا ہوں، اس کا کوئی شریک نہیں، میں اس کے سوا تمام خود ساختہ ہم سروں، بتوں اور ان ہستیوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جن کو مشرکین نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل}: لهم يا أيُّها الرسول، مبيِّناً حقيقة ما تدعو إليه: {إنَّما أدعو ربِّي ولا أشرِكُ به أحداً}؛ أي: أوحِّده وحده لا شريك له، وأخلع ما دونَه من الأنداد والأوثان، وكلُّ ما يتَّخذه المشركون من دونه.