تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 19

وَّ اَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبۡدُ اللّٰہِ یَدۡعُوۡہُ کَادُوۡا یَکُوۡنُوۡنَ عَلَیۡہِ لِبَدًا ﴿ؕ٪۱۹﴾
اور یہ کہ بات یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوا، اسے پکارتا تھا تو وہ قریب تھے کہ اس پر تہ بہ تہ جمع ہو جائیں۔ En
اور جب خدا کے بندے (محمدﷺ) اس کی عبادت کو کھڑے ہوئے تو کافر ان کے گرد ہجوم کرلینے کو تھے
En
اور جب اللہ کا بنده اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وه بھیڑ کی بھیڑ بن کر اس پر پل پڑیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ یعنی جب اللہ کا بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے، اس کی عبادت کرتا ہے اور قرآن پڑھتا ہے تو قریب ہے کہ جنات اپنی کثرت کے باعث ﴿ عَلَیْهِ لِبَدًا اور جو آپ ہدایت لے کر آئے ہیں، اس میں حرص کی بنا پر، آپ پر ہجوم کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنَّه لمَّا قام عبدُ اللهِ يدعوه}؛ أي: يسأله ويتعبَّد له ويقرأ القرآن كاد الجنُّ من تكاثُرِهم عليه، {يكونون عليه لِبَداً}؛ أي: متلبِّدين متراكمين حرصاً على [سماع] ما جاء به من الهدى.