تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 1

قُلۡ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ فَقَالُوۡۤا اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًا عَجَبًا ۙ﴿۱﴾
کہہ دے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے کان لگا کر سنا تو انھوں نے کہا کہ بلاشبہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔ En
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا
En
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا اور کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ اے رسول! لوگوں سے کہہ دیجیے ﴿اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی آیات کے سماع کے لیے اپنے رسول کی طرف متوجہ کیا تاکہ ان پر حجت قائم ہو، ان پر نعمتوں کا اتمام ہو اور وہ اپنی قوم کو متنبہ کرنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ ان کا قصہ لوگوں کو سنا دیں۔ وہ قصہ یہ ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے خاموش رہو پس جب وہ خاموش ہو گئے تو وہ قرآن کے معانی کے فہم سے بہرہ ور ہوئے اور قرآن کے حقائق ان کے دلوں تک پہنچ گئے۔ ﴿فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُ٘رْاٰنًا عَجَبًاتو انھوں نے کہا، ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔ یعنی ہم نے نہایت قیمتی اور تعجب خیز کلام اور نہایت بلند مطالب سنے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {قل}: يا أيُّها الرسول للناس، {أوحِيَ إليَّ أنَّه استمع نفرٌ من الجنِّ}: صرفهم الله إلى رسوله لسماع آياته؛ لتقوم عليهم الحجَّة وتتمَّ عليهم النعمة ويكونوا منذِرين لقومهم، وأمر [اللَّهُ] رسولَه أن يقصَّ نبأهم على الناس، وذلك أنَّهم لما حضروه؛ قالوا: أنصتوا، فلما أنصتوا؛ فهموا معانيه ووصلت حقائقُه إلى قلوبهم. {فقالوا إنَّا سمِعْنا قرآناً عَجَباً}؛ أي: من العجائب الغالية والمطالب العالية.