تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 14

وَّ اَنَّا مِنَّا الۡمُسۡلِمُوۡنَ وَ مِنَّا الۡقٰسِطُوۡنَ ؕ فَمَنۡ اَسۡلَمَ فَاُولٰٓئِکَ تَحَرَّوۡا رَشَدًا ﴿۱۴﴾
اور یہ کہ ہم میں سے کچھ فرماںبردار ہیں اور ہم میں سے کچھ ظالم ہیں، پھر جو فرماں بردار ہوگیا تو وہی ہیں جنھوں نے سیدھے راستے کا قصد کیا۔ En
اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں اور بعض (نافرمان) گنہگار ہیں۔ تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے
En
ہاں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بےانصاف ہیں پس جو فرماں بردار ہوگئے انہوں نے تو راه راست کا قصد کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّاَنَّا مِنَّا الْ٘مُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ اور بے شک ہم میں بعض فرماں بردار ہیں اور بعض (نافرمان) گناہ گار ہیں۔ یعنی صراط مستقیم سے ہٹنے اور اس کو چھوڑنے والے ﴿ فَ٘مَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓىِٕكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا پس جو فرماں بردار ہوئے۔ انھوں نے رشد و ہدایت کا راستہ پا لیا، جو ان کو جنت اور اس کی نعمتوں تک پہنچاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنَّا منَّا المسلمونَ ومنَّا القاسطونَ}؛ أي: الجائرون العادلون عن الصراط المستقيم، {فَمَنْ أسلم فأولئك تَحَرَّوْا رَشَداً}؛ أي: أصابوا طريق الرشد الموصل لهم إلى الجنة ونعيمها.