تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی ظالم لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے ظلم کی پاداش میں جہنم رسید کرے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں بلکہ یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے۔ یعنی اگر وہ ﴿ اسْتَقَامُوْاعَلَىالطَّرِیْقَةِ ﴾”سیدھے راستے پر رہتے “﴿ لَاَسْقَیْنٰهُمْ۠مَّآءًؔغَدَقًا﴾”تو ہم انھیں وافر پانی پلاتے۔“ یعنی وہ مزے سے بستے لیکن ان کے ظلم وعدوان نے انھیں اس سے روک دیا۔ ﴿لِنَفْتِنَہُمْفِیْهِ﴾ یعنی تاکہ ہم ان کو آزمائیں اور ان کا امتحان لیں تاکہ جھوٹے اور سچے کے درمیان فرق ظاہر ہو جائے ﴿ وَمَنْیُّعْرِضْعَنْذِكْرِرَبِّهٖیَسْلُكْهُعَذَابً٘اصَعَدًا﴾، یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ذکر ...جو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ...سے روگردانی کرے، اس کی اتباع کرے نہ اس کی اطاعت کرے بلکہ اس کے بارے میں غافل رہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب دے گا، یعنی سختی کی انتہا کو پہنچا ہوا عذاب۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأما القاسطون فكانوا لجهنم حطباً}: وذلك جزاءً على أعمالهم، لا ظلم من الله لهم، فإنَّهم {لو استقاموا على الطريقةِ}: المثلى، {لأسْقَيْناهم ماءً غَدَقاً}؛ أي: هنيئاً مريئاً، ولم يمنعْهم ذلك إلاَّ ظلمهم وعدوانهم، {لِنَفْتِنَهم فيه}؛ أي: لنختبرهم [فيه] ونمتحِنَهم ليظهر الصادق من الكاذب، {ومن يعرِضْ عن ذكر ربِّه يَسْلُكْه عذاباً صَعَداً}؛ أي: من أعرض عن ذكر الله الذي هو كتابه، فلم يتَّبِعْه وينقدْ له، بل لها عنه وغفل ؛ يَسْلُكْه عذاباً صَعَداً؛ أي: بليغاً شديداً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔