تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَّاَنَّالَمَّاسَمِعْنَاالْهُدٰۤى ﴾”اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی۔“ اور وہ قرآن کریم ہے جو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے، ہم نے اس کی رشد و ہدایت کو پہچان لیا ہے اور اس نے ہمارے دلوں پر اثر کیا ﴿ اٰمَنَّابِهٖ﴾”تو ہم اس پر ایمان لے آئے“ پھر انھوں نے اس بات کا ذکر کیا جو مومن کو ترغیب دیتی ہے، چنانچہ انھوں نے کہا: ﴿ فَ٘مَنْیُّؤْمِنْۢبِرَبِّهٖفَلَایَخَافُبَخْسًاوَّلَارَهَقًا﴾ یعنی جو کوئی اپنے رب پر سچا ایمان لے آیا، اسے کسی نقصان سے واسطہ پڑے گا نہ کوئی تکلیف لاحق ہو گی اورجب وہ شر سے محفوظ ہو گیا تو اسے بھلائی حاصل ہو گئی۔ پس ایمان ایک ایسا سبب ہے جو ہر قسم کی بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر قسم کے شر کی نفی کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأنَّا لمَّا سمِعنا الهدى}: وهو القرآن الكريم الهادي إلى الصراط المستقيم، وعرفنا هدايته وإرشاده؛ أثَّر في قلوبنا، فآمنَّا به، ثم ذكروا ما يرغِّب المؤمن، فقالوا: {فمن يؤمِن بربِّه فلا يخافُ بخساً ولا رَهَقاً}؛ أي: من آمن به إيماناً صادقاً؛ فلا عليه نقصٌ ولا أذىً يلحقُه، وإذا سَلِمَ من الشرِّ؛ حصل له الخيرُ؛ فالإيمان سببٌ داعٍ إلى [حصول] كلِّ خيرٍ وانتفاء كلِّ شرٍّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔