تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 13

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعۡنَا الۡہُدٰۤی اٰمَنَّا بِہٖ ؕ فَمَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِرَبِّہٖ فَلَا یَخَافُ بَخۡسًا وَّ لَا رَہَقًا ﴿ۙ۱۳﴾
اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت سن لی، ہم اس پر ایمان لے آئے، پھر جو کوئی اپنے رب پر ایمان لائے گا تو وہ نہ کسی نقصان سے ڈرے گا نہ کسی زیادتی سے۔ En
اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی اس پر ایمان لے آئے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے نہ ظلم کا
En
ہم تو ہدایت کی بات سنتے ہی اس پر ایمان ﻻئے چکے اور جو بھی اپنے رب پر ایمان ﻻئے گا اسے نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہے نہ ﻇلم وستم کا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّاَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی۔ اور وہ قرآن کریم ہے جو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے، ہم نے اس کی رشد و ہدایت کو پہچان لیا ہے اور اس نے ہمارے دلوں پر اثر کیا ﴿ اٰمَنَّا بِهٖ تو ہم اس پر ایمان لے آئے پھر انھوں نے اس بات کا ذکر کیا جو مومن کو ترغیب دیتی ہے، چنانچہ انھوں نے کہا: ﴿ فَ٘مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَهَقًا یعنی جو کوئی اپنے رب پر سچا ایمان لے آیا، اسے کسی نقصان سے واسطہ پڑے گا نہ کوئی تکلیف لاحق ہو گی اورجب وہ شر سے محفوظ ہو گیا تو اسے بھلائی حاصل ہو گئی۔ پس ایمان ایک ایسا سبب ہے جو ہر قسم کی بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر قسم کے شر کی نفی کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنَّا لمَّا سمِعنا الهدى}: وهو القرآن الكريم الهادي إلى الصراط المستقيم، وعرفنا هدايته وإرشاده؛ أثَّر في قلوبنا، فآمنَّا به، ثم ذكروا ما يرغِّب المؤمن، فقالوا: {فمن يؤمِن بربِّه فلا يخافُ بخساً ولا رَهَقاً}؛ أي: من آمن به إيماناً صادقاً؛ فلا عليه نقصٌ ولا أذىً يلحقُه، وإذا سَلِمَ من الشرِّ؛ حصل له الخيرُ؛ فالإيمان سببٌ داعٍ إلى [حصول] كلِّ خيرٍ وانتفاء كلِّ شرٍّ.