تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 12

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ نُّعۡجِزَ اللّٰہَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَنۡ نُّعۡجِزَہٗ ہَرَبًا ﴿ۙ۱۲﴾
اور یہ کہ ہم نے یقین کر لیا کہ بے شک ہم کبھی اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی بھاگ کر کبھی اسے عاجز کر سکیں گے۔ En
اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں (خواہ کہیں ہوں) خدا کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اس کو تھکا سکتے ہیں
En
اور ہم نے سمجھ لیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو زمین میں ہرگز عاجز نہیں کرسکتے اور نہ ہم بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اس وقت ہم پر پوری طرح واضح ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کامل قدرت کا مالک اور ہم کامل طور پر بے بس ہیں، ہماری پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، ہم زمین میں اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ اگر ہم فرار ہوں تو فرار ہو کر اللہ تعالیٰ کو بے بس نہیں کر سکتے، ہم نے فرار کے اسباب کے ذریعے سے اس کے دست قدرت سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس سے بھاگ کر اس کے سوا کہیں ٹھکانا اور پناہ گاہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وأنَّا في وقتنا الآن تبيَّن لنا كمال قدرة الله وكمال عجزنا، وأنَّ نواصينا بيد الله؛ فلن نعجِزَه في الأرض ولن نعجِزَه إن هَرَبْنا وسَعَيْنا بأسباب الفرار والخروج عن قدرته، لا ملجأ منه إلاَّ إليه.