تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 11

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنَّا دُوۡنَ ذٰلِکَ ؕ کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا ﴿ۙ۱۱﴾
اور یہ کہ ہم میں سے کچھ نیک ہیں اور ہم میں کچھ اس کے علاوہ ہیں، ہم مختلف گروہ چلے آئے ہیں۔ En
اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے۔ ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں
En
اور یہ کہ (بیشک) بعض تو ہم میں نیکو کار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں، ہم مختلف طریقوں سے بٹے ہوئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰؔلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ اور یہ کہ کوئی ہم میں سے نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے۔ یعنی فساق، فجار اور کفار ﴿ كُنَّا طَرَآىِٕقَ قِدَدًا ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں۔ یعنی مختلف و متنوع گروہ اور متفرق خواہشات ہیں۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے، وہ اسی پر فرحاں و شاداں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنَّا منَّا الصالحون ومنَّا دون ذلك}؛ أي: فساق وفجار وكفار، {كنَّا طرائِقَ قِدَداً}؛ أي: فرقاً متنوعةً وأهواءً متفرقةً؛ كلُّ حزبٍ بما لديهم فرحون.