اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کیا ان لوگوں کے ساتھ جو زمین میں ہیں، کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے، یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔
En
اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا ان کے پروردگار نے ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی خیر یا شر میں سے ایک لازمی امر ہے کیونکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان پر معاملہ بدل چکا ہے جو ان کو اچھا نہ لگا۔ پس انھوں نے اپنی فطانت سے پہچان لیا کہ یہ معاملہ ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور زمین پر وقوع میں لانا چاہتا ہے۔اس آیت کریمہ میں ان کے ادب کا بیان ہے کیونکہ انھوں نے خیر کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کی اور ادب کی بنا پر شر کے فاعل کو حذف کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: لا بدَّ من هذا أو هذا؛ لأنَّهم رأوا الأمر تغيَّر عليهم تغيُّراً أنكروه، فعرفوا بفطنتهم أنَّ هذا الأمر يريده الله ويحدِثُه في الأرض، وفي هذا بيانٌ لأدبهم إذ أضافوا الخير إلى الله تعالى، والشرُّ حذفوا فاعله تأدُّباً [مع اللَّه].
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔