تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ نوح (71) — آیت 21

قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ اِنَّہُمۡ عَصَوۡنِیۡ وَ اتَّبَعُوۡا مَنۡ لَّمۡ یَزِدۡہُ مَالُہٗ وَ وَلَدُہٗۤ اِلَّا خَسَارًا ﴿ۚ۲۱﴾
نوح نے کہا اے میرے رب! بے شک انھوں نے میری بات نہیں مانی اور اس کے پیچھے چل پڑے جس کے مال اور اولاد نے خسارے کے سوا اس کو کسی چیز میں زیادہ نہیں کیا۔ En
(اس کے بعد) نوح نے عرض کی کہ میرے پروردگار! یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے جن کو ان کے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا
En
نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال واوﻻد نے ان کو (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ نُوْحٌ نوح علیہ السلام نے اپنے رب کے حضور شکوہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ ان کے اندر اس کلام اور وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہیں دیا ﴿ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ اے میرے رب! انھوں نے ان تمام امور میں میری نافرمانی کی ہے جن کا میں نے ان کو حکم دیا ﴿ وَاتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَوَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًا یعنی انھوں نے خیر خواہی کرنے اور بھلائی کی طرف راہ نمائی کرنے والے رسول کی نافرمانی کی اور ان بڑے لوگوں اور اشراف کی پیروی کی جن کو ان کے مال اور اولاد نے خسارے میں ڈالا، یعنی ان کو ہلاکت میں مبتلا کیا اور منافع سے محروم کر دیا، تب اس شخص کا کیا حال ہو گا جس نے ان کی اطاعت کی اور ان کے احکام پر عمل کیا؟
﴿ وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًؔا یعنی انھوں نے حق کے خلاف عناد میں بہت بڑی چال چلی ﴿وَقَالُوْااور انھوں نے شرک کی دعوت دیتے اور اس کو مزین کرتے ہوئے کہا: ﴿ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ انھوں نے ان کو اس شرک کے تعصب کی طرف بلایا جس پر وہ عمل پیرا تھے اور کہا کہ وہ اس دین کو نہ چھوڑیں جس کو ان کے پہلے آباء و اجداد نے اختیار کیا ہوا تھا، پھر انھوں نے اپنے معبودوں کا نام لے کر کہا:﴿ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ ۬ وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔ یہ نیک لوگوں کے نام ہیں، جب وہ فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے سامنے یہ مزین کر دیا کہ وہ ان نیک لوگوں کے بت بنائیں تاکہ ... بزعم خود ... جب وہ ان کو دیکھیں تو ان کو اطاعت میں نشاط حاصل ہو۔ جب طویل زمانہ گزر گیا اور ان کے بعد دوسرے لوگ آئے تو شیطان نے ان سے کہا تمھارے اسلاف ان بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کو وسیلہ بنایا کرتے تھے، اور ان کے وسیلے سے بارش مانگا کرتے تھےتو انھوں نے ان کی پوجا شروع کردی، اسی لیے ان کے سرداروں نے اپنے پیروکاروں کو نصیحت کی کہ وہ ان بتوں کی عبادت کو نہ چھوڑیں۔
﴿ وَقَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا یعنی ان بڑوں اور سرداروں نے اپنی دعوت کے ذریعے سے بہت سی مخلوق کو گمراہ کر دیا ﴿ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا تو تُو ان کو اور گمراہ کردے۔ میرے ان کو حق کی دعوت دینے کے وقت اگر وہ گمراہ ہوتے تو یہ مصلحت تھی مگر ان سرداروں کی دعوت سے ان کی گمراہی میں اضافہ ہی ہوا ہے، یعنی اب ان کی کامیابی اور اصلاح کا کوئی امکان باقی نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال نوحٌ}: شاكياً لربِّه: إنَّ هذا الكلام والوعظ والتَّذكير ما نَجَعَ فيهم ولا أفاد: {إنَّهم عَصَوْني}: فيما أمرتُهم به، {واتَّبعوا مَنْ لم يَزِده مالُه وولدُه إلاَّ خساراً}؛ أي: عَصَوُا الرسول الناصح الدالَّ على الخير، واتَّبعوا الملأ والأشراف الذين لم تَزِدْهم أموالُهم ولا أولادُهم إلاَّ خساراً؛ أي: هلاكاً وتفويتاً للأرباح؛ فكيف بِمَنِ انقادَ لهم وأطاعهم؟! {ومكروا مَكْراً كُبَّاراً}؛ أي: مكراً كبيراً بليغاً في معاندة الحقِّ. قالوا لهم داعين إلى الشرك مزينين له: {لا تَذَرُنَّ آلهتكم}: فدعوهم إلى التعصُّب على ما هم عليه من الشرك، وأن لا يَدَعوا ما عليه آباؤهم الأقدمون، ثم عيَّنوا آلهتهم، فقالوا: {ولا تَذَرُنَّ ودًّا ولا سُواعاً ولا يَغوثَ ويعوقَ ونَسْراً}: وهذه أسماء رجال صالحين؛ لما ماتوا؛ زيَّن الشيطان لقومهم أن يصوِّروا صورهم؛ لينشطوا بزعمهم على الطاعةِ إذا رأوها، ثم طال الأمدُ، وجاء غير أولئك، فقال لهم الشيطانُ: إنَّ أسلافَكم يعبدونهم ويتوسَّلون بهم، وبهم يُسْقَوْن المطر، فعبدوهم، ولهذا وصَّى رؤساؤهم للتابعين لهم أن لا يَدَعوا عبادة هذه الأصنام ، {وقد أضلُّوا كثيراً}؛ أي: أضلَّ الكبار والرؤساء بدعوتهم كثيراً من الخلق. {ولا تزِدِ الظالمينَ إلاَّ ضلالاً}؛ أي: لو كان ضلالهم عند دعوتي إيَّاهم للحقِّ ؛ لكان مصلحةً، ولكن لا يزيدون بدعوة الرؤساء إلاَّ ضلالاً؛ أي: فلم يبق محلٌّ لنجاحهم وصلاحهم.