تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«وَلَدُهُ» کی دوسری قرأت «وَلَدَهُ» بھی ہے اور ان رئیسوں نے جو مال و جاہ والے تھے ان سے بڑی مکاری کی۔ «کُبَّارِ» اور «کِبَّار» دونوں معنی میں «کَِبْیر» کے ہیں یعنی بہت بڑا۔ قیامت کے دن بھی یہ لوگ یہی کہیں گے کہ «بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا» ۱؎ [34-سبأ:33] ’ تم دن رات مکاری سے ہمیں کفر و شرک کا حکم کرتے رہے اور انہی بڑوں نے ان چھوٹوں سے کہا کہ اپنے ان بتوں کو جنہیں تم پوجتے رہے ہرگز نہ چھوڑنا۔ ‘
صحیح بخاری میں ہے کہ قوم نوح کے بتوں کو کفار عرب نے لے لیا دومتہ الجندل میں قبیلہ کلب ود کو پوجتے تھے، ہذیل قبیلہ سواع کا پرستار تھا اور قبیلہ مراد پھر قبیلہ بنو غطیف جو صرف کے رہنے والے تھے یہ شہر سبا بستی کے پاس ہے یغوث کی پوجا کرتا تھا، ہملان قبیلہ یعقوب کا پجاری تھا، آل ذی کلاع کا، قبیلہ حمیر نسر بت کا ماننے والا تھا، یہ سب بت دراصل قوم نوح کے صالح بزرگ اولیاء اللہ لوگ تھے ان کے انتقال کے بعد شیطان نے اس زمانہ کے لوگوں کے دلوں میں ڈالی کہ ان بزرگوں کی عبادت گاہوں میں ان کی کوئی یادگار قائم کریں، چنانچہ انہوں نے وہاں نشان بنا دیئے اور ہر بزرگ کے نام پر انہیں مشہور کیا جب تک یہ لوگ زندہ رہے تب تک تو اس جگہ کی پرستش نہ ہوئی لیکن ان نشانات اور یادگار قائم کرنے والے لوگوں کو مر جانے کے بعد اور علم کے اٹھ جانے کے بعد جو لوگ آئے جہالت کی وجہ سے انہوں نے باقاعدہ ان جگہوں کی اور ان ناموں کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4920] عکرمہ رحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ، ابن اسحاق رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ شیث علیہ السلام کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا آدم علیہ السلام کے چالیس بچے تھے، بیس لڑکے، بیس لڑکیاں ان میں سے جن کی بڑی عمریں ہوئیں ان میں ہابیل، قابیل، صالح اور عبدالرحمٰن تھے جن کا پہلا نام عبدالحارث تھا اور ود تھا جنہیں شیث اور ھبتہ اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ تمام بھائیوں نے سرداری انہیں کو دے رکھی تھی۔ ان کی اولاد یہ چاروں تھے یعنی سواع، یغوث، یعوق اور نسر۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کی بیماری کے وقت ان کی اولاد ود، یغوث، یعوق، سواع اور نسر تھی۔ ود ان سب میں بڑا اور سب سے نیک سلوک کرنے والا تھا۔
پھر نوح علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بد دعا کرتے ہیں کیونکہ ان کی سرکشی ضد اور عداوت حق خوب ملاحظہ فرما چکے تھے، تو کہتے ہیں کہ الٰہی انہیں گمراہی میں اور بڑھا دے، جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور فرعونیوں کے لیے بد دعا کی تھی کہ «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:88] ’ پروردگار ان کے مال تباہ کر دے اور ان کے دل سخت کر دے انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو جب تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ ‘ چنانچہ دعا نوح قبول ہوتی ہے اور قوم نوح بہ سبب اپنی تکذیب کے غرق کر دی جاتی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال نوحٌ}: شاكياً لربِّه: إنَّ هذا الكلام والوعظ والتَّذكير ما نَجَعَ فيهم ولا أفاد: {إنَّهم عَصَوْني}: فيما أمرتُهم به، {واتَّبعوا مَنْ لم يَزِده مالُه وولدُه إلاَّ خساراً}؛ أي: عَصَوُا الرسول الناصح الدالَّ على الخير، واتَّبعوا الملأ والأشراف الذين لم تَزِدْهم أموالُهم ولا أولادُهم إلاَّ خساراً؛ أي: هلاكاً وتفويتاً للأرباح؛ فكيف بِمَنِ انقادَ لهم وأطاعهم؟! {ومكروا مَكْراً كُبَّاراً}؛ أي: مكراً كبيراً بليغاً في معاندة الحقِّ. قالوا لهم داعين إلى الشرك مزينين له: {لا تَذَرُنَّ آلهتكم}: فدعوهم إلى التعصُّب على ما هم عليه من الشرك، وأن لا يَدَعوا ما عليه آباؤهم الأقدمون، ثم عيَّنوا آلهتهم، فقالوا: {ولا تَذَرُنَّ ودًّا ولا سُواعاً ولا يَغوثَ ويعوقَ ونَسْراً}: وهذه أسماء رجال صالحين؛ لما ماتوا؛ زيَّن الشيطان لقومهم أن يصوِّروا صورهم؛ لينشطوا بزعمهم على الطاعةِ إذا رأوها، ثم طال الأمدُ، وجاء غير أولئك، فقال لهم الشيطانُ: إنَّ أسلافَكم يعبدونهم ويتوسَّلون بهم، وبهم يُسْقَوْن المطر، فعبدوهم، ولهذا وصَّى رؤساؤهم للتابعين لهم أن لا يَدَعوا عبادة هذه الأصنام ، {وقد أضلُّوا كثيراً}؛ أي: أضلَّ الكبار والرؤساء بدعوتهم كثيراً من الخلق. {ولا تزِدِ الظالمينَ إلاَّ ضلالاً}؛ أي: لو كان ضلالهم عند دعوتي إيَّاهم للحقِّ ؛ لكان مصلحةً، ولكن لا يزيدون بدعوة الرؤساء إلاَّ ضلالاً؛ أي: فلم يبق محلٌّ لنجاحهم وصلاحهم.