تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
حضرت نوح علیہ السلام نے سرِ تسلیم خم کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کے لیے آگے بڑھے اور فرمایا: ﴿ یٰقَوْمِاِنِّیْلَكُمْنَذِیْرٌمُّبِیْنٌ﴾ یعنی میں انذار اور تنبیہ کو واضح کر کے کھول کھول کر بیان کرتا ہوں۔ یہ اس لیے کہ آپ نے جس چیز کے ذریعے سے تنبیہ کی اس کو واضح کیا اور جس کے بارے میں تنبیہ کی گئی اس کو واضح کیا اور جس چیز کے ذریعے سے نجات حاصل ہوتی ہے، ان سب باتوں کو شافی طور پر بیان کیا۔
حضرت نوح علیہ السلام نے ان کو آگاہ کیا اور اس بارے میں بنیادی چیز کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اَنِاعْبُدُوااللّٰهَوَاتَّقُوْهُ﴾”یہ کہ اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔“ اور یہ اس طرح کہ عبادت وتوحید میں اللہ تعالیٰ کو یکتا قرار دیا جائے اور شرک اور شرک کے تمام راستوں اور وسائل سے دوررہا جائے۔ کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخش دے گا۔ جب وہ ان کے گناہ بخش دے گا تو انھیں عذاب سے نجات حاصل ہو جائے گی اور وہ ثواب سے بہرہ مند ہوں گے۔ ﴿ وَیُؤَخِّ٘رْؔكُمْاِلٰۤىاَجَلٍمُّ٘سَمًّى﴾ یعنی اس دنیا میں تمھیں متمتع کرے گا اور ایک مدت مقررہ تک ہلاکت کو تم سے دور ہٹا دے گا، یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے دنیا میں باقی رہنے کی مقدار ایک محدود وقت تک موخر کر دیا جائے گی اور یہ متاع ابدی نہیں ہے، موت کو ضرور آنا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ اِنَّاَجَلَاللّٰهِاِذَاجَآءَؔلَایُؤَخَّرُ١ۘلَوْؔكُنْتُمْتَعْلَمُوْنَ﴾”جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی، کاش تم جانتے ہوتے۔“ تو تم اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے نہ حق کے ساتھ عناد رکھتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فامتثل نوحٌ عليه السلام لذلك، وابتدر لأمر الله، فقال: {يا قوم إنِّي لكم نذيرٌ مبينٌ}؛ أي: واضح النذارة بينها، وذلك لتوضيحه ما أنذر به وما أنذر عنه، وبأيِّ شيءٍ تحصُلُ النجاة؛ بيَّن ذلك بياناً شافياً، فأخبرهم وأمرهم بأصل ذلك ، فقال: {أنِ اعبُدوا الله واتَّقوه}: وذلك بإفراده تعالى بالعبادة والتوحيد - والبعد عن الشرك وطرقه ووسائله؛ فإنَّهم إذا اتَّقوا الله؛ غَفَرَ ذنوبهم؛ وإذا غفر ذنوبهم، حصل لهم النجاة من العذاب والفوز بالثواب، {ويؤخِّرْكم إلى أجل مسمًّى}؛ أي: يمتِّعكم في هذه الدار ويدفع عنكم الهلاك إلى إجل مسمًّى؛ أي: مقدَّر البقاء في الدنيا بقضاء الله وقدره إلى وقتٍ محدودٍ، وليس المتاع أبداً؛ فإنَّ الموت لا بدَّ منه، ولهذا قال: {إنَّ أجَلَ الله إذا جاء لا يؤخَّرُ لو كنتُم تعلمون}: كما كفرتُم بالله وعاندتُم الحقَّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔