ترجمہ و تفسیر — سورۃ نوح (71) — آیت 2

قَالَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ۙ﴿۲﴾
اس نے کہا اے میری قوم! بلاشبہ میں تمھیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ En
انہوں نے کہا کہ اے قوم! میں تم کو کھلے طور پر نصیحت کرتا ہوں
En
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے واﻻ ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3،2){ قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّيْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ …:} نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو تین باتوں کا حکم دیا، پہلی یہ کہ بت پرستی اور ہر قسم کا شرک چھوڑ کر اکیلے اللہ کی عبادت کرو۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو، یعنی ہر کام کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھو۔ اس کے بھیجے ہوئے احکام کی پابندی کرو۔ تیسری بات یہ کہ میرا حکم مانو، کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ کی عبادت بھی وہی قبول ہے جو میرے بتائے ہوئے طریقے پر ہو گی۔ تینوں کا خلاصہ توحید، شریعتِ الٰہی کی پابندی اور اطاعت رسول ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

2۔ 1 اللہ کے عذاب سے اگر تم ایمان نہ لائے اسی لیے عذاب سے نجات کا نسخہ تمہیں بتلانے آیا ہوں جو آگے بیان ہو رہا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ انہوں نے کہا: ”اے میری قوم! بلا شبہ میں تمہارے لیے صاف طور پر ڈرانے والا ہوں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عذاب سے پہلے نوح علیہ السلام کا قوم سے خطاب ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اپنی قوم کو ہوشیار کر دو اگر وہ توبہ کر لیں گے اور اللہ کی طرف جھکنے لگیں گے تو اللہ کا عذاب ان سے اٹھ جائے گا۔
نوح علیہ السلام نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا اور صاف کہہ دیا کہ دیکھو میں کھلے لفظوں میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی عبادت اس کا ڈر اور میری اطاعت لازمی چیزیں ہیں جو کام رب نے تم پر حرام کئے ہیں ان سے بچو، گناہ کے کاموں سے الگ تھلگ رہو، جو میں کہوں بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ، میری رسالت کی تصدیق کرو تو اللہ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔ آیت «يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى إِنَّ أَجَلَ اللَّـهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [71-نوح:4]‏‏‏‏ میں لفظ «مِّنْ» یہاں زائد ہے، اثبات کے موقعہ پر بھی کبھی لفظ «مِّنْ» زائد آ جاتا ہے جیسے عرب کے مقولے «قَدْ كَانَ مِنْ مَّطَرٍ» میں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ معنی میں «عن» کے ہو بلکہ ابن جریر رحمہ اللہ تو اسی کو پسند فرماتے ہیں
اور یہ قول بھی ہے کہ «مِّنْ» «إِنَّهَا لِلتَّبْعِيضِ أَيْ يَغْفِر لَكُمْ الذُّنُوب الْعِظَام الَّتِي وَعَدَكُمْ عَلَى اِرْتِكَابكُمْ إِيَّاهَا الِانْتِقَام» کے لیے ہے یعنی ’ تمہارے کچھ گناہ معاف فرما دے گا۔ ‘ یعنی وہ گناہ جن پر سزا کا وعدہ ہے اور وہ بڑے بڑے گناہ ہیں، اگر تم نے یہ تینوں کام کئے تو وہ معاف ہو جائیں گے اور جس عذاب کے ذریعے وہ تمہیں اب تمہاری ان خطاؤں اور غلط کاریوں کی وجہ سے برباد کرنے والا ہے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور تمہاری عمریں بڑھا دے گا۔
اس آیت سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ اللہ کی اطاعت اور نیک سلوک اور صلہ رحمی سے حقیقتاً عمر بڑھ جاتی ہے، حدیث میں یہ بھی ہے کہ { صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے۔} ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1908]‏‏‏‏
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نیک اعمال اس سے پہلے کر لو کہ اللہ کا عذاب آ جائے اس لیے جب وہ آ جاتا ہے پھر نہ اسے کوئی ہٹا سکتا ہے نہ روک سکتا ہے، اس بڑے کی بڑائی نے ہر چیز کو پست کر رکھا ہے اس کی عزت و عظمت کے سامنے تمام مخلوق پست ہے۔‘

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

حضرت نوح علیہ السلام نے سرِ تسلیم خم کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کے لیے آگے بڑھے اور فرمایا: ﴿ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ یعنی میں انذار اور تنبیہ کو واضح کر کے کھول کھول کر بیان کرتا ہوں۔ یہ اس لیے کہ آپ نے جس چیز کے ذریعے سے تنبیہ کی اس کو واضح کیا اور جس کے بارے میں تنبیہ کی گئی اس کو واضح کیا اور جس چیز کے ذریعے سے نجات حاصل ہوتی ہے، ان سب باتوں کو شافی طور پر بیان کیا۔
حضرت نوح علیہ السلام نے ان کو آگاہ کیا اور اس بارے میں بنیادی چیز کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاتَّقُوْهُ یہ کہ اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔ اور یہ اس طرح کہ عبادت وتوحید میں اللہ تعالیٰ کو یکتا قرار دیا جائے اور شرک اور شرک کے تمام راستوں اور وسائل سے دوررہا جائے۔ کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخش دے گا۔ جب وہ ان کے گناہ بخش دے گا تو انھیں عذاب سے نجات حاصل ہو جائے گی اور وہ ثواب سے بہرہ مند ہوں گے۔ ﴿ وَیُؤَخِّ٘رْؔكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّ٘سَمًّى یعنی اس دنیا میں تمھیں متمتع کرے گا اور ایک مدت مقررہ تک ہلاکت کو تم سے دور ہٹا دے گا، یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے دنیا میں باقی رہنے کی مقدار ایک محدود وقت تک موخر کر دیا جائے گی اور یہ متاع ابدی نہیں ہے، موت کو ضرور آنا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَؔ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْؔ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی، کاش تم جانتے ہوتے۔ تو تم اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے نہ حق کے ساتھ عناد رکھتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فامتثل نوحٌ عليه السلام لذلك، وابتدر لأمر الله، فقال: {يا قوم إنِّي لكم نذيرٌ مبينٌ}؛ أي: واضح النذارة بينها، وذلك لتوضيحه ما أنذر به وما أنذر عنه، وبأيِّ شيءٍ تحصُلُ النجاة؛ بيَّن ذلك بياناً شافياً، فأخبرهم وأمرهم بأصل ذلك ، فقال: {أنِ اعبُدوا الله واتَّقوه}: وذلك بإفراده تعالى بالعبادة والتوحيد - والبعد عن الشرك وطرقه ووسائله؛ فإنَّهم إذا اتَّقوا الله؛ غَفَرَ ذنوبهم؛ وإذا غفر ذنوبهم، حصل لهم النجاة من العذاب والفوز بالثواب، {ويؤخِّرْكم إلى أجل مسمًّى}؛ أي: يمتِّعكم في هذه الدار ويدفع عنكم الهلاك إلى إجل مسمًّى؛ أي: مقدَّر البقاء في الدنيا بقضاء الله وقدره إلى وقتٍ محدودٍ، وليس المتاع أبداً؛ فإنَّ الموت لا بدَّ منه، ولهذا قال: {إنَّ أجَلَ الله إذا جاء لا يؤخَّرُ لو كنتُم تعلمون}: كما كفرتُم بالله وعاندتُم الحقَّ.