تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ نوح (71) — آیت 1

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ اَنۡ اَنۡذِرۡ قَوۡمَکَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱﴾
بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا، اس سے پہلے کہ ان پر ایک درد ناک عذاب آ جائے۔ En
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ پیشتر اس کے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کر دو
En
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کر دو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آ جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر رحم کرتے ہوئے، ان کو درد ناک عذاب سے متنبہ کرتے اور ان کو اپنے کفر پر جمے رہنے سے ڈراتے ہوئے حضرت نوح علیہ السلام کوان کی طرف مبعوث فرمایا، مبادا اللہ تعالیٰ ان کو ابدی ہلاکت، سرمدی عذاب میں مبتلا کر دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأخبر تعالى أنَّه أرسل نوحاً إلى قومه رحمةً بهم وإنذاراً [لهم] من عذاب أليم؛ خوفاً من استمرارهم على كفرهم، فيهلكهم [اللَّهُ] هلاكاً أبديًّا، ويعذِّبهم عذاباً سرمديًّا.