تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَفَاَمِنَاَهْلُالْ٘قُ٘رٰۤى ﴾”کیا بستیوں والے (جنھوں نے انبیاء کی تکذیب کی)، اپنے آپ کو مامون سمجھتے ہیں؟“﴿ اَنْیَّ٘اْتِیَهُمْبَ٘اْسُنَا ﴾”اس بات سے کہ آئے ان کے پاس ہمارا عذاب“ یعنی ہمارا سخت عذاب ﴿ بَیَاتًاوَّهُمْنَآىِٕمُوْنَ ﴾”راتوں رات، جبکہ وہ سوئے ہوئے ہوں “ یعنی ان کے آرام کی گھڑیوں میں اور ان کی غفلت کے اوقات میں۔