تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 96

وَ لَوۡ اَنَّ اَہۡلَ الۡقُرٰۤی اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لٰکِنۡ کَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۹۶﴾
اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور بچ کر چلتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین سے بہت سی برکتیں کھول دیتے اور لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے انھیں اس کی وجہ سے پکڑ لیا جو وہ کمایا کرتے تھے۔ En
اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے۔ تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا
En
اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کے لیے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکر و استدراج کے طور پر انھیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لیے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دارومدار ہے اور انھیں بغیر کسی تنگی اور بغیر کسی محنت اور مشقت کے وافر رزق عطا کرتا مگر وہ ایمان لائے نہ انھوں نے تقویٰ اختیار کیا ﴿ فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْ٘سِبُوْنَ پس ہم نے ان کی بداعمالیوں کے سبب سے ان کو عذاب اور مصائب میں مبتلا کر دیا۔ان سے برکات چھین لیں اور کثرت کے ساتھ ان پر آفتیں نازل کیں۔ یہ ان کے اعمال کی سزا کا کچھ حصہ ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال کی پوری سزا دنیا ہی میں دے دے تو روئے زمین پر کوئی جاں دار نہ بچے گا۔ ﴿ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْـبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ (الروم:30؍41) بحر و بر میں لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب سے فساد پھیل گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر تعالى أنَّ المكذِّبين للرسل يُبتلون بالضراء موعظةً وإنذاراً، وبالسراء استدراجاً ومكراً؛ ذكر أنَّ أهل القُرى لو آمنوا بقلوبهم إيماناً صادقاً صدقتْه الأعمالُ، واستعملوا تقوى الله تعالى ظاهراً وباطناً بترك جميع ما حرَّم الله [تعالى]؛ لفتحَ عليهم بركاتِ السَّماء والأرض، فأرسل السماء عليهم مدراراً، وأنبتَ لهم من الأرض ما به يعيشون وتعيشُ بهائمهُم في أخصب عيش وأغزر رزق من غير عناء ولا تعبٍ ولا كدٍّ ولا نصبٍ، ولكنهم لم يؤمنوا ويتَّقوا، {فأخذناهم بما كانوا يكسِبون}: بالعقوبات والبلايا ونزع البركات وكثرة الآفات، وهي بعض جزاء أعمالهم، وإلاَّ؛ فلو آخذهم بجميع ما كسبوا؛ ما ترك على ظهرها من دابَّةٍ، {ظَهَرَ الفسادُ في البرِّ والبحر بما كَسَبَتْ أيدي الناس لِيُذيقَهم بعضَ الذي عملوا لعلَّهم يرجِعون}.