تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 98

اَوَ اَمِنَ اَہۡلُ الۡقُرٰۤی اَنۡ یَّاۡتِیَہُمۡ بَاۡسُنَا ضُحًی وَّ ہُمۡ یَلۡعَبُوۡنَ ﴿۹۸﴾
اور کیا بستیوں والے بے خوف ہوگئے کہ ہمارا عذاب ان پر دن چڑھے آجائے اور وہ کھیل رہے ہوں۔ En
اور کیا اہلِ شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں
En
اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے جس وقت کہ وه اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَوَاَمِنَ اَهْلُ الْ٘قُ٘رٰۤى اَنْ یَّ٘اْتِیَهُمْ بَ٘اْسُنَا ضُحًى وَّهُمْ یَلْ٘عَبُوْنَ کیا بے خوف ہیں بستیوں والے اس بات سے کہ آپہنچے ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے، جبکہ وہ کھیلتے ہوں یعنی کون سی چیز انھیں محفوظ و مامون رکھ سکتی ہے حالانکہ انھوں نے عذاب الٰہی کے تمام اسباب کو اکٹھا کر لیا ہے اور بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا جن میں سے بعض جرائم ہلاکت کے موجب ہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أوَ أمِنَ أهلُ القرى أن يأتِيَهم بأسُنا ضحىً وهم يلعبونَ}: أيُّ شيءٍ يؤمِّنُهم من ذلك وهم قد فعلوا أسبابه وارتكبوا من الجرائم العظيمة ما يوجب بعضُه الهلاك.