ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 96

وَ لَوۡ اَنَّ اَہۡلَ الۡقُرٰۤی اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لٰکِنۡ کَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۹۶﴾
اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور بچ کر چلتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین سے بہت سی برکتیں کھول دیتے اور لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے انھیں اس کی وجہ سے پکڑ لیا جو وہ کمایا کرتے تھے۔ En
اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے۔ تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا
En
اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 96) ➊ {وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا …:} اگر واقعی بستیوں والے ایمان لاتے اور اللہ کی حدود کی پابندی کرتے تو اس ایمان اور تقویٰ کا نتیجہ ان انعامات کی شکل میں پاتے کہ…! اور ایمان اور تقویٰ اختیار نہ کرنے کا نتیجہ عذاب الٰہی کی صورت میں نکلتا ہے کہ وہ برکات سے محروم ہو کر عذاب سے دو چار ہوتے ہیں۔
➋ {لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ: بَرَكٰتٍ بَرَكَةٌ } کی جمع ہے، کسی چیز میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر ہونا۔ اصل میں { بِرْكَةٌ } حوض کو کہتے ہیں، جس طرح حوض میں پانی جمع ہوتا ہے، اسی طرح کسی چیز میں بہت سی خیر موجود ہونا { بَرَكَةٌ } کہلاتا ہے۔ راغب نے فرمایا: چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر اس طرح آتی ہے کہ آتے ہوئے نہ اس کا احساس ہوتا ہے اور نہ اس کا کوئی شمار ہوتا ہے، اس لیے اگر کسی شخص یا چیز میں محسوس نہ ہونے والی بہتری کا مشاہدہ ہو رہا ہوتوکہتے ہیں کہ وہ مبارک ہے اور اس میں برکت ہے۔ (طنطاوی)
برکتیں کھول دیتے یہ استعارہ ہے کہ جس طرح دروازہ کھل جاتا ہے اس طرح ان پر برکات کا نزول ہوتا، یعنی آسمان سے بارش اور رحمتوں کی صورت میں اور زمین سے پانی زرعی اجناس (غلے اور پھل) اور زمین سے نکلنے والی بے شمار نعمتوں، مثلاً پٹرول، گیس، سونا، چاندی اور جواہرات وغیرہ کی صورت میں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

96۔ اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لاتے اور اللہ کی نافرمانی [101] سے بچتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے تو جھٹلایا۔ پھر ہم نے انہیں ان کی کرتوتوں کی پاداش میں دھر لیا
[101] اللہ کے فرمانبردار معاشرے پر برکتوں کا نزول:۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا اصول بیان فرمایا ہے جس کی ظاہر بین عقل پرستوں کو سمجھ آ ہی نہیں سکتی البتہ تجربہ اور مشاہدہ دونوں اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ جس علاقے میں اللہ کے احکامات کی جس حد تک تعمیل کی جا رہی ہو اس علاقے پر اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول شروع ہو جاتا ہے موجودہ دور میں اس کی مثال کسی حد تک سعودی عرب میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کی مقرر کردہ حدود میں سے کسی ایک حد کے قائم کرنے سے اتنی برکات اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے جتنا چالیس دن کی بارش سے ہوتا ہے۔ [نسائي۔ كتاب قطع السارق باب الترغيب فى اقامة الحد]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عوام کی فطرت ٭٭
لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے، اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف یونس علیہ السلام کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کر دیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے۔ ’ یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے۔ ‘ ۱؎ [37-الصافات:147-148]‏‏‏‏
تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں کی نہ مانی بلکہ انہیں جھوٹا سمجھا اور روبرو جھوٹا کہا۔ برائیوں سے، حرام کاریوں سے ایک انچ نہ ہٹے۔ اس وجہ سے تباہ کر دیے گئے۔
کیا کافروں کو اس بات کا خوف نہیں کہ راتوں رات ان کی بےخبری میں ان کے سوتے ہوئے عذاب الٰہی آ جائے اور یہ سوئے کے سوئے رہ جائیں؟ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن دہاڑے ان کے کھیل کود اور غفلت کی حالت میں اللہ جل جلالہ کا عذاب آ جائے؟ اللہ کے عذابوں سے، اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے۔
اس کی بےپایاں قدرت کے اندازے سے غافل وہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ بربادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہوں۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے اور فاسق، فاجر شخص برائیاں کرتا ہے اور بےخوف رہتا ہے۔ نتیجے میں مومن امن پاتا ہے اور فاجر پیس دیا جاتا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کے لیے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکر و استدراج کے طور پر انھیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لیے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دارومدار ہے اور انھیں بغیر کسی تنگی اور بغیر کسی محنت اور مشقت کے وافر رزق عطا کرتا مگر وہ ایمان لائے نہ انھوں نے تقویٰ اختیار کیا ﴿ فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْ٘سِبُوْنَ پس ہم نے ان کی بداعمالیوں کے سبب سے ان کو عذاب اور مصائب میں مبتلا کر دیا۔ان سے برکات چھین لیں اور کثرت کے ساتھ ان پر آفتیں نازل کیں۔ یہ ان کے اعمال کی سزا کا کچھ حصہ ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال کی پوری سزا دنیا ہی میں دے دے تو روئے زمین پر کوئی جاں دار نہ بچے گا۔ ﴿ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْـبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ (الروم:30؍41) بحر و بر میں لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب سے فساد پھیل گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر تعالى أنَّ المكذِّبين للرسل يُبتلون بالضراء موعظةً وإنذاراً، وبالسراء استدراجاً ومكراً؛ ذكر أنَّ أهل القُرى لو آمنوا بقلوبهم إيماناً صادقاً صدقتْه الأعمالُ، واستعملوا تقوى الله تعالى ظاهراً وباطناً بترك جميع ما حرَّم الله [تعالى]؛ لفتحَ عليهم بركاتِ السَّماء والأرض، فأرسل السماء عليهم مدراراً، وأنبتَ لهم من الأرض ما به يعيشون وتعيشُ بهائمهُم في أخصب عيش وأغزر رزق من غير عناء ولا تعبٍ ولا كدٍّ ولا نصبٍ، ولكنهم لم يؤمنوا ويتَّقوا، {فأخذناهم بما كانوا يكسِبون}: بالعقوبات والبلايا ونزع البركات وكثرة الآفات، وهي بعض جزاء أعمالهم، وإلاَّ؛ فلو آخذهم بجميع ما كسبوا؛ ما ترك على ظهرها من دابَّةٍ، {ظَهَرَ الفسادُ في البرِّ والبحر بما كَسَبَتْ أيدي الناس لِيُذيقَهم بعضَ الذي عملوا لعلَّهم يرجِعون}.