تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 9

وَ مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۹﴾
اور وہ شخص کہ اس کے پلڑے ہلکے ہوگئے تو یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، اس لیے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ناانصافی کرتے تھے۔ En
اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے
En
اور جس شخص کا پلا ہلکا ہوگا سو یہ وه لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کے ساتھ ﻇلم کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے۔ یعنی جن کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا، ان کا معاملہ اس کے مطابق ہوگا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنا نقصان کیا کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو کر دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے ﴿ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ اس واسطے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بے انصافی کرتے تھے یعنی ان آیات کریمہ کی اطاعت جس طرح کرنا ان پر واجب تھی انھوں نے نہیں کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ومن خفَّتْ موازينُه}: بأن رجحتْ سيئاتُه وصار الحكم لها، {فأولئك الذين خسروا أنفسهم}: إذ فاتهم النعيمُ المقيمُ وحصل لهم العذابُ الأليم، {بما كانوا بآياتِنا يَظْلِمونَ}: فلم ينقادوا لها كما يجبُ عليهم ذلك.