تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 10

وَ لَقَدۡ مَکَّنّٰکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ جَعَلۡنَا لَکُمۡ فِیۡہَا مَعَایِشَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھیں زمین میں ٹھکانا دیا اور ہم نے تمھارے لیے اس میں زندگی کے سامان بنائے، بہت کم تم شکر کرتے ہو۔ En
اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو
En
اور بے شک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا، تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ معاش و مسکن کا ذکر کرتے ہوئے اپنے بندوں پر احسان جتلاتا ہے ﴿ وَلَقَدْ مَكَّـنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ ہم نے تمھیں زمین میں ٹھکانا مہیا کیا جس سے تم زمین میں گھر بناتے ہو، کھیتی باڑی کرتے ہو اور بعض دیگر وجوہ سے اس سے استفادہ کرتے ہو ﴿ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ اور مقرر کر دیں ہم نے اس میں تمھارے لیے روزیاں تمام معاش کا دارومدار ان چیزوں پر ہے جو درختوں، نباتات، معدنیات، مختلف قسم کی صنعتوں اور تجارت سے ہوتی ہیں۔ وہی ہے جس نے تمھیں یہ تمام چیزیں مہیا کیں اور مختلف اسباب کو تمھارے لیے مسخر کیا ﴿ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو۔ یعنی تم اللہ تعالیٰ کا بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو، جس نے انواع و اقسام کی نعمتوں سے تمھیں نوازا اور مختلف مصائب کو تم سے دور کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى ممتنًّا على عباده بذكر المسكن والمعيشة: {ولقد مكَّنَّاكم في الأرض}؛ أي: هيأناها لكم بحيث تتمكَّنون من البناء عليها وحرثها ووجوه الانتفاع بها، {وجَعَلْنا لكم فيها معايشَ}: مما يخرج من الأشجار والنبات ومعادن الأرض وأنواع الصنائع والتجارات؛ فإنه هو الذي هيَّأها وسخَّر أسبابها، {قليلاً ما تشكُرون}: الله الذي أنعم عليكم بأصناف النعم، وصَرَفَ عنكم النقم.