تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی قیامت کے روز اعمال کا وزن عدل و انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔ کسی بھی لحاظ سے کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا ﴿فَ٘مَنْثَقُلَتْمَوَازِیْنُهٗ ﴾”تو جن لوگوں کے وزن بھاری ہوں گے۔“ یعنی جن کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَهُمُالْمُفْلِحُوْنَ ﴾”تو وہی نجات پانے والے ہوں گے۔“ یہی لوگ ہیں جو ناپسندیدہ امور سے نجات حاصل کریں گے اور اپنے محبوب امور کو پا لیں گے جن کو بہت بڑا نفع اور دائمی سعادت حاصل ہوگی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: والوزن يوم القيامة يكون بالعدل والقسط الذي لا جَوْر فيه ولا ظلم بوجه. {فمن ثَقُلَتْ موازينُه}: بأن رَجَحَتْ كفةُ حسناته على سيئاته، {فأولئك هم المفلحونَ}؛ أي: الناجون من المكروه، المدركون للمحبوب، الذين حصل لهم الربح العظيم والسعادة الدائمة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔