تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 8

وَ الۡوَزۡنُ یَوۡمَئِذِ ۣالۡحَقُّ ۚ فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۸﴾
اور اس دن وزن حق ہے، پھر وہ شخص کہ اس کے پلڑے بھاری ہوگئے، تو وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔ En
اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں
En
اور اس روز وزن بھی برحق ہے پھر جس شخص کا پلا بھاری ہوگا سو ایسے لوگ کامیاب ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی قیامت کے روز اعمال کا وزن عدل و انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔ کسی بھی لحاظ سے کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا ﴿فَ٘مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ تو جن لوگوں کے وزن بھاری ہوں گے۔ یعنی جن کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ تو وہی نجات پانے والے ہوں گے۔ یہی لوگ ہیں جو ناپسندیدہ امور سے نجات حاصل کریں گے اور اپنے محبوب امور کو پا لیں گے جن کو بہت بڑا نفع اور دائمی سعادت حاصل ہوگی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: والوزن يوم القيامة يكون بالعدل والقسط الذي لا جَوْر فيه ولا ظلم بوجه. {فمن ثَقُلَتْ موازينُه}: بأن رَجَحَتْ كفةُ حسناته على سيئاته، {فأولئك هم المفلحونَ}؛ أي: الناجون من المكروه، المدركون للمحبوب، الذين حصل لهم الربح العظيم والسعادة الدائمة.