تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 81

اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴿۸۱﴾
بے شک تم تو عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔ En
یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو
En
تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر، بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر لوط علیہ السلام نے واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّـكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ یعنی تم کیسے عورتوں کو چھوڑ کر، جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کیا ہے، جن سے تمتع کرنا فطرت اور جبلی شہوت کے مطابق ہے، مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو، جو کہ قباحت اور خباثت کی انتہا ہے۔ یہ جسم کا وہ حصہ ہے جہاں سے گندگی اور بدبودار مادے خارج ہوتے ہیں اس حصے کو چھونا اور اس کے قریب جانا تو کجا اس کا نام لینے سے بھی شرم آتی ہے۔ ﴿بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌؔ مُّسْرِفُوْنَ بلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے یعنی تم اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کو پھلانگتے ہو اور اس کے محرمات کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم بيَّنها بقوله: {إنَّكم لَتأتونَ الرجال شهوةً من دون النساء}؛ أي: كيف تَذَرون النساء التي خلقهنَّ الله لكم، وفيهنَّ المستمتَعُ الموافق للشهوة والفطرة، وتقبِلون على أدبار الرجال، التي هي غايةُ ما يكون في الشناعة والخبث، محلٌّ تخرج منه الأنتان والأخباث التي يُسْتَحى من ذكرِها فضلاً عن ملامستها وقربها. {بل أنتم قومٌ مسرفونَ}؛ أي: متجاوِزون لما حدَّه الله، متجرِّئون على محارمه.